حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 911 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 911

911 تا نہ قربان خدائے خود شویم! تا نہ مجو آشنائے خود شویم! جب تک ہم اپنے خدا پر قربان نہ ہو جائیں اور جب تک اپنے دوست کے اندر محونہ ہو جائیں۔تا نه باشیم از وجود خود بروں تا نه گردد پر ز مهرش اندروں جب تک ہم اپنے وجود سے علیحدہ نہ ہو جائیں اور جب تک سینہ اس کی محبت سے بھر نہ جائے۔تا نه بر ما مرگ آید صد ہزار کے حیاتی تازه بینیم از نگار جب تک ہم پر لاکھوں موتیں وارد نہ ہوں تب تک ہمیں اس محبوب کی طرف سے نئی زندگی کب مل سکتی ہے۔(سراج منیر - ر- خ - جلد 12 صفحہ 100 ) ( در شین فارسی صفحه 237) مصیبتوں کو برا نہیں مانا چاہئے کیونکہ مصیبتوں کو برا سمجھنے والا مومن نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ لَنَبْلُوَنَّكَ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔(البقرة: 157-156)۔یہی تکالیف جب رسولوں پر آتی ہیں تو ان کو انعام کی خوشخبری دیتی ہیں اور جب یہی تکالیف بدوں پر آتی ہیں۔ان کو تباہ کر دیتی ہیں غرض مصیبت کے وقت قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھنا چاہیئے کہ تکالیف کے وقت خدا تعالیٰ کی رضا طلب کرے۔مومن کی زندگی کے دوحصہ جو نیک کام مومن کرتا ہے اس کے لیے اجر مقرر ہوتا ہے مگر صبر ایک ایسی چیز ہے جس کا ثواب بے حد و بے شمار ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہی لوگ صابر ہیں۔یہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا کو سمجھ لیا۔خدا تعالیٰ ان لوگوں کی زندگی کے دو حصہ کرتا ہے جو صبر کے معنے سمجھ لیتے ہیں۔اول جب وہ دعا کرتا تو خدا تعالیٰ اسے قبول کرتا ہے جیسا کہ فرمایا اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔(المومن (61) أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔(البقرة:187) ( البدر جلد 2 نمبر 9 مورخہ 20 مارچ 1903 صفحہ 67 ) ( تفسیر سورۃ البقرۃ صفحہ 222-221) عاجزی انکساری پسند آتی ہے اس کو خاکساری تذلل ہے رہ درگاه باری وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔(الدريت: 57) عاجزی اختیار کرنی چاہیئے۔عاجزی کا سیکھنا مشکل نہیں ہے۔اس کا سیکھنا ہی کیا ہے انسان تو خود ہی عاجز ہے اور وہ عاجزی کے لئے ہی پیدا کیا گیا ہے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُون تكبر وغیرہ سب بناوٹی چیزیں ہیں اگر اس بناوٹ کو اتار دے تو پھر اس کی فطرت میں عاجزی ہی نظر آوے گی۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 232) خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہر گز نہیں ہے کہ جو اس کے حضور عاجزی سے گر پڑے وہ اسے خائب و خاسر کرے اور ذلت کی موت دیوے۔جو اس کی طرف آتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ایسی نظیر ایک