حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 903 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 903

903 جو لوگ قرآن شریف پر ایمان لائیں گے ان کو مبشر خوا ہیں اور الہام دیئے جائیں گے یعنی بکثرت دیئے جائیں گے ورنہ شاذ و نادر کے طور پر کسی دوسرے کو بھی کوئی سچی خواب آ سکتی ہے مگر ایک قطرہ کو ایک دریا کے ساتھ کچھ نسبت نہیں اور ایک پیسہ کو ایک خزانہ کے ساتھ کچھ مشابہت نہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قدیم سے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوتا چلا آتا ہے اور اس زمانہ میں ہم خود اس کے شاہد رویت ہیں۔(چشمہ معرفت۔۔۔خ۔جلد 23 صفحہ 410) روحانی مقام موہبت اور فضل الہی قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَ جَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا اذِلَّةً وَ كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ۔(النمل:35) پھر چوتھی حالت کے بعد پانچویں حالت ہے جس کے مفاسد سے نہایت سخت اور شدید محبت نفس امارہ کو ہے کیونکہ اس مرتبہ پر صرف ایک لڑائی باقی رہ جاتی ہے اور وہ وقت قریب آجاتا ہے کہ حضرت عزت جل شانہ کے فرشتے اس وجود کی تمام آبادی کو فتح کرلیں اور اس پر اپنا پورا تصرف اور دخل کر لیں اور تمام نفسانی سلسلہ کو درہم برہم کر دیں اور نفسانی قومی کے قریہ کو ویران کر دیں اور اس کے نمبرداروں کو ذلیل اور پست کر کے دکھلا دیں اور پہلی سلطنت پر ایک تباہی ڈال دیں اور انقلاب سلطنت پر ایسا ہی ہوا کرتا ہے قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَ جَعَلُوا اَعِذَّةَ اَهْلِهَا اَذِلَّةً وَ كَذلِكَ يَفْعَلُون اور یہ مومن کے لئے ایک آخری امتحان اور آخری جنگ ہے جس پر اس کے تمام مراتب سلوک ختم ہو جاتے ہیں اور اس کا سلسلہ ترقیات جو کسب اور کوشس سے ہے انتہا تک پہنچ جاتا ہے اور انسانی کوششیں اپنے اخیر نقطہ تک منزل طے کر لیتی ہیں پھر بعد اس کے صرف موہبت اور فضل کا کام باقی رہ جاتا ہے جو خلق آخر کے متعلق ہے۔براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ - جلد 21 صفحہ 238) الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَثِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ ، إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمُ إِذْ اَنْشَاكُمُ مِنَ الْأَرْضِ وَ إِذْ أَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهِتِكُمْ فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى۔(النجم : 33) تزکیہ نفس ایک ایسی شئی ہے کہ خود بخود نہیں ہو سکتا اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمُ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى كرتم یہ خیال نہ کرو کہ ہم اپنے نفس یا عقل کے ذریعہ سے خود بخود مز کی بن جاویں گے۔یہ بات غلط ہے۔وہ خوب جانتا ہے کون متقی ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحه 429)