حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 890 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 890

890 مرید اور مرشد کا تعلق وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔(طه: 115) مرشد اور مرید کے تعلقات استاد اور شاگرد کی مثال سے سمجھ لینے چاہیں جیسے شاگرد استاد سے فائدہ اٹھاتا ہے اسی طرح مرید اپنے مرشد سے لیکن شاگرداگر استاد سے تعلق تو رکھے مگر اپنی تعلیم میں قدم آگے نہ بڑھائے تو فائدہ نہیں اٹھا سکتا یہی حال مرید کا ہے۔پس اس سلسلہ میں تعلق پیدا کر کے اپنی معرفت اور علم کو بڑھانا چاہیئے طالب حق کو ایک مقام پر پہنچ کر ہر گز ٹھہر نانہیں چاہئے ورنہ شیطان لعین اور طرف لگا دے گا اور جیسے بند پانی میں عفونت پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح اگر مومن اپنی ترقیات کے لئے سعی نہ کرے تو وہ گر جاتا ہے۔پس سعادت مند کا فرض ہے کہ وہ طلب دین میں لگا رہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی انسان کامل دنیا میں نہیں گزرا لیکن آپ کو بھی رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (طه : 115) کی دعا کی تعلیم ہوئی تھی پھر اور کون ہے جو اپنی معرفت اور علم پر کامل بھروسہ کر کے ٹھہر جاوے اور آئندہ ترقی کی ضرورت نہ سمجھے۔جوں جوں انسان اپنے علم اور معرفت میں ترقی کرے گا اسے معلوم ہوتا جاوے گا کہ ابھی بہت سی باتیں حل طلب باقی ہیں۔بعض امور کو وہ ابتدائی نگاہ میں اس بچے کی طرح جو اقلیدس کے اشکال کو محض بیہودہ سمجھتا ہے ) بالکل بیہودہ سمجھتے تھے لیکن آخروہی امور صداقت کی صورت میں ان کو نظر آئے اس لئے کس قدر ضروری ہے کہ اپنی حیثیت کو بدلنے کے ساتھ علم کو بڑھانے کے لئے ہر بات کی تکمیل کی جاوے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 142-141) پس اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت میں اسے ذوق شوق پیدا ہو تو اس کو اللہ تعالیٰ کی نسبت صحیح علم حاصل کرنا چاہیئے اور یہ علم بھی حاصل نہیں ہوتا جب تک انسان صادق کی صحبت میں نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کی تازہ بتازہ تجلیات کا ظہور مشاہدہ نہ کرے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 311)