حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 869
869 اہل اللہ کے دوہی کام ہوتے ہیں جب کسی بلا کے آثار دیکھتے ہیں تو دعا کرتے ہیں لیکن جب دیکھتے ہیں کہ قضا وقد ر اس طرح پر ہے تو صبر کرتے ہیں جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچوں کی وفات پر صبر کیا جن میں سے ایک بچہ ابراہیم بھی تھاجبکہ خدا تعالیٰ نے یہ دو قسمیں رکھ دی ہیں اور یہ اس کی سنت ٹھہر چلی ہے اور یہ بھی اس نے فرمایا ہے لَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلًا (الفاطر: 44) پھر کس قدر غلطی ہے جو انسان اس کے خلاف چاہے۔سب حاجتیں خدا سے مانگو ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 297) ادنی اور اعلیٰ سب حاجتیں بغیر شرم کے خدا سے مانگو کہ اصل معطی وہی ہے۔بہت نیک وہی ہے جو بہت دعا کرتا ہے کیونکہ اگر کسی بخیل کے دروازہ پر سوالی ہر روز جا کر سوال کرے گا تو آخر ایک دن اس کو بھی شرم آ جاوے گی۔پھر خدا تعالیٰ سے مانگنے والا جو بیشل کریم ہے کیوں نہ پائے؟ پس مانگنے والا کبھی نہ کبھی ضرور پالیتا ہے۔نماز کا دوسرا نام دعا بھی ہے جیسے فرمایا۔اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : 61) ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 175) دعا اور تدابیر فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا (النازعات: 6) دعا کے ساتھ تدابیر کو نہ چھوڑے کیونکہ اللہ تعالیٰ تدبیر کو بھی پسند کرتا ہے اور اسی لئے فَالْمُدَبِرَاتِ اَمْرًا کہہ کر قرآن شریف میں قسم بھی کھائی ہے۔جب وہ اس مرحلہ کو طے کرنے کے لئے دعا بھی کرے گا اور تدبیر سے بھی اس طرح کام لے گا کہ جو مجلس اور صحبت اور تعلقات اس کو حارج ہیں ان سب کو ترک کر دے گا اور رسم عادت اور بناوٹ سے الگ ہو کر دعا میں مصروف ہوگا تو ایک دن قبولیت کے آثار مشاہدہ کر لے گا۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 102) یادرکھو کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے۔نماز اور توحید کچھ ہی ہو کیونکہ تو حید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے اس وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلیل کی روح اور حنیف دل نہ ہو۔سنو وہ دعا جس کے لئے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔(المومن (61) فرمایا ہے اس کے لئے بھی کچی روح مطلوب ہے۔اگر اس تصرع اور خشوع میں حقیقت کی روح نہیں تو وہ ٹیں ٹیں سے کم نہیں ہے۔پھر کوئی کہ سکتا ہے کہ اسباب کی رعایت ضروری نہیں ہے۔یہ ایک غلط نہی ہے۔شریعت نے اسباب کو منع نہیں کیا ہے اور سچ پوچھو تو کیا دعا اسباب نہیں؟ یا اسباب دعا نہیں ؟ تلاش اسباب بجائے خود ایک دعا ہے اور دعا بجائے خود عظیم الشان اسباب کا چشمہ انسان کی ظاہری بناوٹ اس کے دو ہاتھ دو پاؤں کی ساخت ایک دوسرے کی امداد کا ایک قدرتی راہنما ہے۔جب یہ نظارہ خود انسان میں موجود ہے پھر کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ وہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوى (المائدہ :3) کے معنے سمجھنے میں مشکلات کو دیکھے۔ہاں میں یہ کہتا ہوں کہ تلاش اسباب بھی بذریعہ دعا کرو۔میں نہیں سمجھتا کہ جب میں تمہارے جسم کے اندر اللہ تعالیٰ کا ایک قائم کردہ سلسلہ اور کامل را ہنما سلسلہ دکھاتا ہوں تو اس سے انکار کرو۔اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اور بھی صاف کرنے اور وضاحت سے دنیا پر