حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 868
868 دعا اور تقویٰ يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ۔(المائده : 28) دعا کی راہ میں دو بڑے مشکل امر ہیں جن کی وجہ سے اکثر دلوں سے عظمت دعا کی پوشیدہ رہتی ہے (1) اول تو شرط تقویٰ اور راست بازی اور خدا تری ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ۔یعنی اللہ تعالیٰ پر ہیز گار لوگوں کی دعا قبول کرتا ہے۔ایام اصلح۔رخ۔جلد 14 صفحہ 260) تقویٰ کے مدارج اور مراتب بہت ہیں۔لیکن اگر طالب صادق ہو کر ابتدائی مراتب اور مراحل کو استقلال اور خلوص سے طے کرے تو وہ اس راستی اور طلب صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پالیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائدہ : 28) گویا اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے یہ گویا اس کا وعدہ ہے اور اس کے وعدوں میں تخلف نہیں ہوتا۔جیسا کہ فرمایا ہے اِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ (الرعد: 32)۔پناہ دیں بود و ملجاء مسلماناں ( ملفوظات جلد اول صفحہ 68) بعقد همت خود دافع قضا باشد وہ دین کی پناہ اور مسلمانوں کی جائے حفاظت ہوتا ہے اور اپنی ہمت کے زور سے قضا کو دفع کر دیتا ہے۔ہزار سرزنی و مشکلی نه گردد حل چو پیش او بروی کار یک دعا باشد تو ہزار ٹکریں مارتار ہے مگر تری مشکل حل نہیں ہوتی لیکن جب تو اس کے سامنے جاتا ہے تو اس کی ایک دعا کافی ہوتی ہے۔تریاق القلوب -رخ- جلد 15 صفحہ 130- 129) دعا۔صبر اور استقلال میرے خدائے کریم و قدیر کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے ارادوں کو جو دعاؤں کی قبولیت کے بعد ظاہر کرنا چاہتا ہے اکثر دیر اور آہستگی سے ظاہر کرتا ہے تاجو بد بخت اور شتاب کار ہیں وہ بھاگ جائیں اور اس خاص طور کے فضل کا انہیں کو حصہ ملے جو خدا تعالیٰ عزوجل کے دفتر میں سعید لکھے گئے ہیں۔مکتوبات احمد جلد پنجم حصہ اول صفحہ 34 مکتوب نمبر 82 بنام حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی ) دعاؤں میں استقلال اور صبر ایک الگ چیز ہے اور اڑ کر مانگنا اور بات ہے۔یہ کہنا کہ میر افلاں کام اگر نہ ہوا تو میں انکار کر دوں گا یا یہ کہہ دوں گا یہ بڑی نادانی اور شرک ہے اور آداب الدعا سے ناواقفیت ہے۔ایسے لوگ دعا کی فلاسفی سے ناواقف ہیں۔قرآن شریف میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ ہر ایک دعا تمہاری مرضی کے موافق میں قبول کروں گا۔بیشک یہ ہم مانتے ہیں کہ قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے اُدْعُونِی اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن: 61) لیکن ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ اسی قرآن شریف میں یہ بھی لکھا ہوا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ الايه ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ میں اگر تمہاری مانتا ہے تو لَنَبْلُوَنَّكُمُ میں اپنی منوانی چاہتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا احسان اور اس کا کرم ہے کہ وہ اپنے بندہ کی بھی مان لیتا ہے ورنہ اس کی الوہیت اور ربوبیت کی شان کے یہ ہرگز خلاف نہیں کہ اپنی ہی منوائے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 297-296)