حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 863
863 روزہ اور نماز ہر دو عبادتیں ہیں۔روزے کا زور جسم پر ہے اور نماز کا زور روح پر ہے۔نماز سے ایک سوز وگداز پیدا ہوتی ہے اس واسطے وہ افضل ہے۔روزے سے کشوف پیدا ہوتے ہیں۔مگر یہ کیفیت بعض دفعہ جو گیوں میں بھی پیدا ہوسکتی ہے۔لیکن روحانی گدازش جو دعاؤں سے پیدا ہوتی ہے۔اس میں کوئی شامل نہیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 293-292) شَهُرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَ بَيِّنَتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَان فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمُهُ۔(البقرة: 186) شَهُرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرآن سے ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔صوفیاء نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر قلب کے لیے عمدہ مہینہ ہے کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں صلوۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم ( روزه) تجلی قلب کرتا ہے۔تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بعد حاصل ہو جاوے اور تجلی قلب سے یہ مراد ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لیوے۔پس شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيْهِ القُرآن میں یہی اشارہ ہے اس میں شک وشبہ کوئی نہیں روزہ کا اجر عظیم ہے لیکن امراض اور اغراض اس نعمت سے انسان کو محروم رکھتے ہیں مجھے یاد ہے کہ جوانی کے ایام میں میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ روزہ رکھنا سنت اہل بیت ہے میرے حق میں پیغمبر خدا نے فرمایا سَلْمَانُ مِنَّا اَهْلِ الْبَيْتِ سلمان یعنی الصلحان کہ اس شخص کے ہاتھ سے دو صلح ہوگی ایک اندرونی دوسری بیرونی اور یہ اپنا کام رفق سے کرے گا نہ کہ شمشیر سے اور میں مشرب حسین پر نہیں ہوں کہ جس نے جنگ کی بلکہ مشرب حسن پر ہوں کہ جس نے جنگ نہ کی میں نے سمجھا کہ روزہ کی طرف اشارہ ہے۔چنانچہ میں نے چھ ماہ تک روزے رکھے۔اس اثنا میں میں نے دیکھا کہ انوار کے ستونوں کے ستون آسمان پر جا رہے ہیں یہ امر مشتبہ ہے کہ انوار کے ستون زمین سے آسمان پر جاتے تھے یا میرے قلب سے۔لیکن یہ سب کچھ جوانی میں ہوسکتا تھا اور اگر اس وقت میں چاہتا تو چار سال تک روزہ رکھ سکتا تھا۔۔۔۔خدا تعالیٰ کے احکام دو قسموں میں تقسیم ہیں ایک عبادات مالی دوسرے عبادات بدنی۔عبادات مالی تو اسی کے لیے ہیں جس کے پاس مال ہوا اور جس کے پاس نہیں وہ معذور ہیں۔اور عبادات بدنی کو بھی انسان عالم جوانی میں ہی ادا کر سکتا ہے ورنہ 60 سال جب گذرے تو طرح طرح کے عوارضات لاحق ہوتے ہیں نزول الماء وغیرہ شروع ہو کر بینائی میں فرق آ جاتا ہے ( کسی نے ) یہ ٹھیک کہا ہے کہ پیری وصد عیب۔اور جو کچھ انسان اپنی جوانی میں کر لیتا ہے اس کی برکت بڑھاپے میں بھی ہوتی ہے اور جس نے جوانی میں کچھ نہیں کیا اسے بڑھاپے میں بھی صد ہا رنج برداشت کرنے پڑتے ہیں۔موئے سفید از اجل آرد پیام۔انسان کا یہ فرض ہونا چاہیئے کہ حسب استطاعت خدا کے فرائض بجالا وے روزہ کے بارے میں خدا فرماتا ہے وَ اَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ یعنی اگر تم روزہ رکھ بھی لیا کر و تو تمہارے واسطے بڑی خیر ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 563-561)