حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 821
821 اِنَّ اللهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔(الاحزاب:57) ( ملفوظات جلد اول صفحہ 24) خدا اور اس کے سارے فرشتے اس نبی کریم پر درود بھیجتے ہیں۔اے ایماندارو تم بھی اس پر درود بھیجو اور نہایت اخلاص اور محبت سے سلام کرو۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 265 حاشیہ نمبر 11 ) اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اکرم کے اعمال ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف یا اوصاف کی تحدید کرنے کے لئے کوئی لفظ خاص نہ فرمایا۔لفظ تو مل سکتے تھے لیکن خود استعمال نہ کئے۔یعنی آپ کے اعمالِ صالحہ کی تعریف تحدید سے بیروں تھی۔اس قسم کی آیت کسی اور نبی کی شان میں استعمال نہ کی۔آپ کی روح میں وہ صدق و وفا تھا اور آپ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے یہ حکم دیا کہ آئندہ لوگ شکر گزاری کے طور پر درود بھیجیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات پیش آمدہ کی اگر معرفت ہو اور اس بات پر پوری اطلاع ہو کہ اس وقت دنیا کی کیا حالت تھی اور آپ نے آ کر کیا کیا تو انسان وجد میں آکر اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ کہہ اٹھتا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں یہ خیالی اور فرضی بات نہیں ہے قرآن شریف اور دنیا کی تاریخ اس امر کی پوری شہادت دیتی ہے کہ نبی کریم نے کیا کیا ورنہ وہ کیا بات تھی جو آپ کے لئے مخصوصاً فرمایا گیا إِنَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا کسی دوسرے نبی کے لئے یہ صدا نہیں آئی۔پوری کامیابی پوری تعریف کے ساتھ یہی ایک انسان دنیا میں آیا جو مجھ کہلا یا صلی اللہ علیہ وسلم۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 421) قبولیت دعا کے تین ہی ذریعے ہیں اول إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي - دومِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا سوم موهبت الى - درد اور وظائف ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 38) لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَ ذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا۔(الاحزاب:22) میں یہ بھی تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ بہت سے لوگ ہیں جو اپنے تراشے ہوئے وظائف اور اور اد کے ذریعہ سے ان کمالات کو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن میں تمہیں کہتا ہوں کہ جوطریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار نہیں کیا وہ محض فضول ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر منم علیہ کی راہ کا سا تجربہ کار اورکون ہوسکتا ہے جن پر نبوت کے بھی سارے کمالات ختم ہو گئے۔آپ نے جو راہ اختیار کیا ہے وہ بہت ہی صحیح اور اقرب ہے اس راہ کو چھوڑ کر اور ایجاد کرنا خواہ وہ بظاہر کتنا ہی خوش کرنے والا معلوم ہوتا ہو میری رائے میں ہلاکت ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر ایسا ہی ظاہر کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے اتباع سے خدا ملتا ہے اور آپ کے اتباع کو چھوڑ کر خواہ کوئی ساری عمر ٹکریں مارتا ر ہے گوہر مقصود اس کے ہاتھ میں نہیں آسکتا چنانچہ سعدیؒ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی ضرورت بتاتا ہے۔