حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 809
809 اصل حقیقت اور اصل سرچشمہ نجات کا محبت ذاتی ہے جو وصال الہی تک پہنچاتی ہے وجہ یہ کہ کوئی محبت اپنے محبوب سے جدا نہیں رہ سکتا اور چونکہ خدا خود نور ہے اس لیے اس کی محبت سے نور نجات پیدا ہو جاتا ہے اور وہ محبت جو انسان کی فطرت میں ہے خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کی محبت ذاتی انسان کی محبت ذاتی میں ایک خارق عادت جوش بخشتی ہے اور ان دونوں محبتوں کے ملنے سے ایک فنا کی صورت پیدا ہو کر بقاء باللہ کا نور پیدا ہو جاتا ہے اور یہ بات کہ دونوں محبتوں کا باہم ملنا ضروری طور پر اس نتیجہ کو پیدا کرتا ہے کہ ایسے انسان کا انجام فنافی اللہ ہو اور خاکستر کی طرح یہ وجود ہو کر ( جو حجاب ہے) سراسر عشق الہی میں روح غرق ہو جائے۔اس کی مثال وہ حالت ہے کہ جب انسان پر آسمان سے صاعقہ پڑتی ہے تو اس آگ کی کشش سے انسان کے بدن کی اندرونی آگ یک دفعہ باہر آ جاتی ہے تو اس کا نتیجہ جسمانی فنا ہوتا ہے پس دراصل یہ روحانی موت بھی اسی طرح دو قسم کی آگ کو چاہتی ہے ایک آسمانی آگ اور ایک اندرونی آگ اور دونوں کے ملنے سے وہ فنا پیدا ہو جاتی ہے جس کے بغیر سلوک تمام نہیں ہوسکتا یہی فناوہ چیز ہے جس پر سالکوں کا سلوک ختم ہو جاتا ہے اور جو انسانی مجاہدات کی آخری حد ہے۔اس فنا کے بعد فضل اور موہبت کے طور پر مرتبہ بقا کا انسان کو حاصل ہوتا ہے۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو یہ مرتبہ ملا انعام کے طور پر ملا یعنی محض فضل سے نہ کسی عمل کا اجر اور یہ عشق الہی کا آخری نتیجہ ہے جس سے ہمیشہ کی زندگی حاصل ہوتی ہے اور موت سے نجات ہوتی ہے۔(چشمہ مسیحی۔رخ - جلد 20 صفحہ 365-364) إِنَّمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهُوٌ وَ اِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا يُؤْتِكُمْ أُجُورَكُمْ وَلَا يَسْتَلْكُمُ أَمْوَالَكُمْ۔(محمد: 37) خدا تعالیٰ کے ساتھ انسان کا ایک خاص تعلق ہے۔اہل عرفان لوگوں نے بشریت اور ربوبیت کے جوڑہ پر بہت لطیف بخشیں کی ہیں۔اگر بچے کا منہ پتھر سے لگا ئیں تو کیا کوئی دانشمند خیال کر سکتا ہے کہ اس پتھر میں سے دودھ نکل آئے گا اور بچہ سیر ہو جائے گا ہر گز نہیں۔اسی طرح پر جب تک انسان خدا تعالیٰ کے آستانہ پر نہیں گرتا اس کی روح ہمہ نیستی ہوکر ربوبیت سے تعلق پیدا نہیں کرتی اور نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ عدم یا مشابہہ بالعدم نہ ہو کیونکہ ربوبیت اس کو چاہتی ہے اس وقت تک وہ روحانی دودھ سے پرورش نہیں پاسکتا۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 137)