حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 793
793 کریں تو اس طور سے کرنے چاہیئے کہ دوسری قرآنی آئتیں ان معنوں کی موید اور مفسر ہوں اختلاف اور تناقض پیدا نہ ہو۔کیونکہ قرآن کی بعض آیتیں بعض کے لئے بطور تفسیر کے ہیں اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی بھی انہیں معنوں کی مفسر ہو کیونکہ جس پاک اور کامل نبی پر قرآن نازل ہوا وہ سب سے بہتر قرآن شریف کے معنی جانتا ہے۔غرض اتم اور اکمل طریق معنے کرنے کا تو یہ ہے لیکن اگر کسی آیت کے بارے میں حدیث صحیح مرفوع متصل نہ مل سکے تو ا د نے درجہ استدلال کا یہ ہے کہ قرآن کی ایک آیت کے معنی دوسری آیات بینات سے کئے جاویں۔لیکن ہرگز یہ درست نہیں ہوگا کہ بغیر ان دونوں قسم کے التزام کے اپنے ہی خیال اور رائے سے معنی کریں کاش اگر پادری عمادالدین وغیرہ اس طریق کا التزام کرتے تو نہ آپ ہلاک ہوتے اور نہ دوسروں کی ہلاکت کا (آریہ دھرم -ر خ- جلد 10 صفحہ 81-80 حاشیہ) موجب ٹھہرتے۔یا د رہے کہ کسی قرآنی آیت کے معنے ہمارے نزدیک وہی معتبر اور صحیح ہیں جس پر قرآن کے دوسرے مقامات بھی شہادت دیتے ہوں کیونکہ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر ہیں اور نیز قرآن کے کامل اور یقینی معنوں کے لئے اگر وہ یقینی مرتبہ قرآن کے دوسرے مقامات سے میسر نہ آ سکے یہ بھی شرط ہے کہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل بھی اس کی مفسر ہو غرض ہمارے مذہب میں تفسیر بالرائے ہرگز جائیز نہیں پس ہر یک معترض پر لازم ہوگا کہ کسی اعتراض کے وقت اس طریق سے باہر نہ جائے۔آریہ دھرم - ر- خ- جلد 10 صفحہ 86 حاشیہ ) اے اسیر عقل خود بر ہستی خود کم بناز کیں پہر بوالعجائب چوں تو بسیار آورد اپنی عقل کے قیدی اپنی ہستی پر ناز نہ کر کہ یہ عجیب آسمان تیری طرح کے بہت سے آدمی لا یا کرتا ہے غیر را ہر گز نمی باشد گذر در کوئے حق ہر کہ آید ز آسماں اور از آن یار آورد خدا کے کوچہ میں غیر کو ہر گز دخل نہیں ہوتا جو آسمان سے آتا ہے وہی اس یار کے اسرار ہمراہ لاتا ہے خود بخود فهمیدن قرآن گمان باطل است هر که از خود آورد اونجس و مردار آورد آپ ہی آپ قرآن کو سمجھ لینا ایک غلط خیال ہے جو شخص اپنے پاس سے اسکا مطلب پیش کرتا ہے وہ گندگی اور مردار ہی پیش کرتا ہے۔( برکات الدعا۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 5) ( در نین فاری متر جم صفحه 196-195)