حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 792
792 کسی کو کلام الہی میں تغیر و تبدل کا اختیار نہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ ہم الہی کلام کی کسی آیت میں تغیر اور تبدیل اور تقدیم اور تاخیر اور فقرات تراشی کے مجاز نہیں ہیں مگر صرف اس صورت میں کہ جب خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہو اور یہ ثابت ہو جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ بذات خود ایسی تغییر اور تبدیل کی ہے اور جب تک ایسا ثابت نہ ہو تو ہم قرآن کی ترصیع اور ترتیب کو زیروز بر نہیں کر سکتے اور نہ اس میں اپنی طرف سے بعض فقرات ملا سکتے ہیں۔اور اگر ایسا کریں تو عند اللہ مجرم اور قابل مواخذہ ہیں۔تفسیر بالرائے تفسیر قرآن کریم کے معیار بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔(اتمام الحجة-ر-خ- جلد 8 صفحہ 291) چوتھا معیار خود اپنا نفس مطہر لے کر قرآن کریم میں غور کرنا ہے کیونکہ نفس مطہر ہ سے قرآن کریم کو مناسبت ہے اللہ جل شانہ فرماتا ہے لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ یعنی قرآن کریم کے حقائق صرف ان پر کھلتے ہیں جو پاک دل ہوں۔کیونکہ مطبر القلب انسان پر قرآن کریم کے پاک معارف بوجہ مناسبت کھل جاتے ہیں اور وہ ان کو شناخت کر لیتا ہے اور سونگھ لیتا ہے اور اس کا دل بول اٹھتا ہے کہ ہاں یہی راہ کچی ہے اور اس کا نور قلب سچائی کی پرکھ کے لئے ایک عمدہ معیار ہوتا ہے۔پس جب تک انسان صاحب حال نہ ہو اور اس تنگ راہ سے گذرنے والا نہ ہو جس سے انبیاء علیہم السلام گذرے ہیں تب تک مناسب ہے کہ گستاخی اور تکبر کی جہت سے مفسر قرآن نہ بن بیٹھے ورنہ وہ تفسیر بالرائے ہوگی جس سے نبی علیہ السلام نے منع فرمایا ہے اور کہا ہے مَنْ فَسَّرَ الْقُرْآنَ برَأيهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَا يعنى جس نے صرف اپنی رائے سے قرآن کریم کی تفسیر کی اور اپنے خیال میں اچھی کی تب بھی اس نے بُری تفسیر کی۔برکات الدعاء۔ر-خ- جلد 6 صفحہ 18-19) اول یہ کہ وہ اسلام کے مقابل پر ان بیہودہ روایات اور بے اصل حکایات سے مجتنب رہیں جو ہماری مسلم اور مقبول کتابوں میں موجود نہیں اور ہمارے عقیدہ میں داخل نہیں اور نیز قرآن کے معنی اپنے طرف سے نہ گھڑ لیا کریں بلکہ وہی معنی کریں جو تو اتر آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہوں اور پادری صاحبان اگر چہ انجیل کے معنے کرنے کے وقت ہر یک بے قیدی کے مجاز ہوں۔مگر ہم مجاز نہیں ہیں اور انہیں یا د رکھنا چاہیئے کہ ہمارے مذہب میں تفسیر بالرائے معصیت عظیمہ ہے قرآن کی کسی آیت کے معنی اگر