حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 786 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 786

وحی 786 جابجا مفسروں نے وحی کے لفظ کو الہام ہی سے تعبیر کیا ہے۔کئی احادیث میں بھی یہی معنے ملتے ہیں۔سواد اعظم علماء کا الہام کو وحی کا مترادف قرار دینے میں متفق ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو استعمال کیا ہے تو پھر اس سے انحراف کرنا صریح تحکم ہے۔علم شریعت میں اسی طرح صد با عرفی الفاظ ہیں جن کے مفہوم کولغوی معنوں میں محدود کرنا ایک ضلالت ہے۔خود وحی کے لفظ کو دیکھئے کہ اس کے وہ معنے جن کی رو سے خدا کی کتا ہیں وحی رسالت کہلاتی ہیں کہاں لغت سے ثابت ہوتے ہیں اور کسی کتاب لغت میں وہ کیفیت نزول وحی لکھی ہے جس کیفیت سے خدا اپنے مرسلوں سے کلام کرتا ہے اور ان پر اپنے احکام نازل کرتا ہے۔جیہہ ( براھین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 244-245 حاشیه در حاشیہ نمبر 1) قوله ، میچ کے دوبارہ آنے پر ایک یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ۔(ال عمران: 46) حضرت مسیح نے اس زمانہ میں جبکہ وہ یہودیوں کے لیے مبعوث ہوئے عزت نہیں پائی اس لیے ماننا پڑا کہ پھر وہ آویں گے تب دنیا کی وجاہت ان کو نصیب ہوگی۔اقول۔یہ خیال بالکل بیہودہ ہے۔قرآن شریف میں یہ لفظ نہیں کہ وَجِيْهَا عِنْدَ أَهْلِ الدُّنْيَا - دنیاداروں اور دنیا کے کتوں کی نظر میں تو کوئی نبی بھی اپنے زمانے میں وجہ نہیں ہوا کیونکہ انہوں نے کسی نبی کو تسلیم نہیں کیا بلکہ قبول کرنے والے اکثر ضعفاء اور غرباء ہوئے ہیں جو دنیا سے بہت کم حصہ رکھتے تھے سو آیت کے یہ معنے نہیں کہ پہلے زمانے میں عیسی کو دنیا کے رئیسوں اور امیروں اور کرسی نشینوں نے قبول نہ کیا لیکن دوسری مرتبہ قبول کریں گے۔بلکہ قرآن کے عام محاورہ کے رو سے آیت کے یہ معنے ہیں کہ دنیا میں بھی راستباوں میں مسیح کی عزت ہوئی اور وجاہت مانی گئی جیسا کہ بیچی نبی نے ان کو مع اپنی تمام جماعت کے قبول کیا اور ان کی تصدیق کی اور بہتوں نے تصدیق کی اور قیامت میں بھی وجاہت ظاہر ہوگی۔ایام الصلح - ر - خ- جلد 14 صفحہ 412) یوم قُل لَّكُمْ مِيْعَادُ يَوْمٍ لَا تَسْتَأْخِرُونَ۔خِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَّلَا تَسْتَقْدِمُونَ۔(سبا: 31) یوم سے مراد اس جگہ برس ہے چنانچہ بائبل میں بھی یہ محاورہ پایا جاتا ہے سو پورے برس کے بعد بدر کی لڑائی کا عذاب مکہ والوں پر نازل ہوا جو پہلی لڑائی تھی۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات صفحہ 18 حاشیہ )