حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 785
785 ( ترجمہ ) اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا ہے قَدانَزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا اور پھر فرمایا۔اَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ (الحديد: 26) نیز فرمایا - اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْأَنْعَامِ (الزمر: 7) اور یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ یہ سب چیزیں آسمان سے نہیں اترتیں۔ہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں آسمان کی طرف یہ اشارہ کرنے کے لیے منسوب کیا ہے کہ ان اسباب میں سے جو اللہ تعالیٰ نے ان اشیاء کی تخلیق اور تکوین اور پیدا کرنے کے لیے مقدر فرمائے ہیں ان میں سے پہلی علت آسمان، سورج چاند اور ستاروں کی تاثیرات ہیں اور ان آیات میں اللہ عزوجل نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ زمین عورت کی ماند ہے اور آسمان اس کے خاوند کے مانند ہے ان میں سے ایک کا کام دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔پس ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت جوڑ دیا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا اور حکمت والا ہے۔اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ (الطارق:5) ترجمہ : نہیں کوئی جی مگر اس پر ایک نگہبان ہے۔الغرض جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں یہ بات نہایت احتیاط سے اپنے حافظہ میں رکھ لینی چاہیئے کہ مقربوں کاروح القدس کی تاثیر سے علیحدہ ہونا ایک دم کے لئے بھی ممکن نہیں کیونکہ ان کی نئی زندگی کی روح یہی روح القدس ہے پھر وہ اپنی روح سے کیونکر علیحدہ ہو سکتے ہیں اور جس علیحدگی کا ذکر احادیث اور بعض اشارات قرآن کریم میں پایا جاتا ہے اس سے مراد صرف ایک قسم کی جلی ہے کہ بعض اوقات بوجہ مصالح الہی اس قسم کی تجلی میں کبھی دیر ہو گئی ہے اور اصطلاح قرآن کریم میں اکثر نزول سے مراد وہی تجلی ہے۔ساعة نزول سے مراد عزت و جلال کا اظہار ہوتا ہے۔آئینہ کمالات اسلام - ر-خ- جلد 5 صفحہ 90-91 حاشیہ ) ( لمفوطات جلد اوّل صفحہ 396 ) افسوس کہ سادہ لوح حجرہ نشین مولویوں کی نظر محدود ہے ان کو معلوم نہیں کہ پہلی کتابوں میں اسی ساعت کا وعدہ تھا جوطیطوس کے وقت یہودیوں پر وارد ہوئی اور قرآن شریف صاف کہتا ہے کہ عیسی کی زبان پر ان پر لعنت پڑی اور عذاب عظیم کے واقعہ کو ساعة کے لفظ سے بیان کرنا نہ صرف قرآن شریف کا محاورہ ہے بلکہ یہی محاورہ پہلی آسمانی کتابوں میں پایا جاتا ہے اور بکثرت پایا جاتا ہے پس نہ معلوم ان سادہ لوح مولویوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ ساعۃ کا لفظ ہمیشہ قیامت پر ہی بولا جاتا ہے۔( اعجاز احمدی۔رخ۔جلد 19 صفحہ 131 )