حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 776
776 دہریوں کے رنگ میں ہو جاتے ہیں اور صفات باری جیسے ازلی ہیں ویسے ابدی بھی ہیں اور ان کو مشاہدہ کے طور پر دکھلانے والے محض انبیاء علیہم السلام ہیں اور نفی صفات باری نفی وجود باری کوستلزم ہے۔اس تحقیق سے ثابت ہے کہ اللہ تعالے پر ایمان لانے کیلئے انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا کس قدر ضروری ہے کہ بغیر ان کے خدا پر ایمان لا نا ناقص اور نا تمام رہ جاتا ہے اور نیز آیات محکمات کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ ان کی شہادت نہ محض کثرت آیات سے بلکہ عملی طور پر بھی ملتی ہے۔یعنی خدا کے نبیوں کی متواتر شہادت ان کے بارہ میں پائی جاتی ہے جیسا کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے کلام قرآن شریف اور دوسرے نبیوں کی کتابوں کو دیکھے گا۔اس کو معلوم ہوگا کہ نبیوں کی کتابوں میں جس طرح خدا پر ایمان لانے کی تاکید ہے ایسا ہی اسکے رسولوں پر بھی ایمان لانے کی تاکید ہے اور متشابہات کی یہ علامت ہے کہ ان کے ایسے معنی ماننے سے جو مخالف محکمات کے ہیں فساد لازم آتا ہے اور نیز دوسری آیات سے جو کثرت کے ساتھ ہیں مخالف پڑتی ہیں خدا تعالیٰ کے کلام میں تناقض ممکن نہیں اس لئے جو قلیل ہے بہر حال کثیر کے تابع کرنا پڑتا ہے۔(حقیقۃ الوحی۔رخ۔جلد 22 صفحہ 175-174) آیات متشابہات قلیل الوجود اور شاذ و نادر ہیں متواتر اور کثیر آیات قرآنیہ محکمات ہیں اس اشکال کا جواب یہی ہے کہ ایسے اعتراضات صرف بدظنی سے پیدا ہوتے ہیں۔اگر کوئی حق کا طالب اور متقی طبع ہے تو اس کیلئے مناسب طریق یہ ہے کہ ان کاموں پر اپنی رائے ظاہر نہ کرے جو متشابہات میں سے اور بطور شاذ نادر ہیں کیونکہ شاذ نادر میں کئی وجوہ پیدا ہو سکتے ہیں۔اور یہ فاسقوں کا طریق ہے کہ نکتہ چینی کے وقت میں اس پہلو کو چھوڑ دیتے ہیں جس کے صدہا نظائر موجود ہیں۔اور بدنیتی کے جوش سے ایک ایسے پہلو کو لے لیتے ہیں جو نہایت قلیل الوجود اور متشابہات کے حکم میں ہوتا ہے اور نہیں جانتے کہ یہ متشابہات کا پہلو جوشاذ نادر کے طور پر پاک لوگوں کے وجود میں پایا جاتا ہے یہ شریر انسانوں کے امتحان کے لئے رکھا گیا ہے اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو اپنے پاک بندوں کا طریق اور عمل ہر ایک پہلو سے ایسا صاف اور روشن دکھلاتا۔کہ شریر انسان کو اعتراض کی گنجائش نہ ہوتی۔مگر خدا تعالیٰ نے ایسا نہ کیا تا وہ خبیث طبع انسانوں کا خبث ظاہر کرے۔نبیوں اور رسولوں اور اولیاء کے کارناموں میں ہزار ہانمونے ان کی تقویٰ اور طہارت اور امانت اور دیانت اور صدق اور پاس عہد کے ہوتے ہیں۔اور خود خدا تعالیٰ کی تائیدات ان کی پاک باطنی کی گواہ ہوتی ہیں۔لیکن شریر انسان ان نمونوں کو نہیں دیکھتا اور بدی کی تلاش میں رہتا ہے۔آخر وہ حصہ متشابہات کا جو قرآن شریف کی طرح اس کے نسخہ وجود میں بھی ہوتا ہے۔مگر نہایت کم شریر انسان اسی کو اپنے اعتراض کا نشانہ بناتا ہے۔اور اس طرح ہلاکت کی راہ اختیار کر کے جہنم میں جاتا ہے۔تریاق القلوب - رخ - جلد 15 صفحہ 425-424 حاشیہ )