حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 764
764 قُلْ اِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى۔(الانعام:72) الہام حضرت اقدس قُلْ إِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الْهُدی ان کو کہدے کہ تمہارے خیالات کیا چیز ہیں ہدایت وہی ہے جو خدا تعالیٰ براہ راست آپ دیتا ہے ورنہ انسان اپنے غلط اجتہادات سے کتاب اللہ کے معنی بگاڑ دیتا ہے اور کچھ کا کچھ سمجھ لیتا ہے۔وہ خدا ہی ہے جو غلطی نہیں کھاتا لہذا ہدایت اس کی ہدایت ہے انسانوں کے اپنے خیالی معنے بھروسے کے لائق نہیں ہیں۔( براھین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 87-88) تفسیر قرآن کی حدود اور تدبر فی القرآن وَاقْصِد فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ انْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوتُ الْحَمِيرِ۔(لقمن: 20) ہمارا مطلب و مدعا یہ ہے کہ ایسے امور کی موشگافی اور تہ بینی کی امید سے اپنی عقلوں اور فکروں کو آوارہ مت کرو جو تمہاری بساط سے باہر ہیں۔کیا یہ سچ نہیں کہ بہتیرے ایسے لوگ ہیں کہ ناجائز فکروں میں پڑ کر اپنی اس معین اور مقرر وسعت سے جو قدرت نے ان کو دے رکھی ہے باہر چلے جاتے ہیں اور اپنی محدود عقل سے کل کائنات کے عمیق در عمیق رازوں کو حل کرنا چاہتے ہیں۔سو یہ افراط ہے جیسے بکلی تحقیق و تفتیش سے منہ پھیر لینا تفریط ہے۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَاقْصِدُ فِی مَشْیک یعنی اپنی چال میں تو سط اختیار کر نہ ایسا فکر کومنجمد کر لینا چاہیئے کہ جو ہزار ہا نکات و لطائف الہیات قابل دریافت ہیں ان کی تحصیل سے محروم رہ جائیں اور نہ اس قدر تیزی کرنی چاہیئے کہ ان فکروں میں پڑ جائیں کہ خدائے تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے اور یا اس نے اس قد رارواح اور اجسام کس طرح بنالئے ہیں اور یا اس نے کیونکر اکیلا ہونے کی حالت میں اس قدر وسیع عالم بنا ڈالا ہے۔تفسیر نویسی سرمه چشم آریہ۔ر۔خ۔جلد 2 صفحہ 166-167) تفسیر قرآن اور تائید روح القدس اس بات کا ذکر آیا کہ آج کل لوگ بغیر بے علم اور واقفیت کے تفسیریں لکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔اس پر فرمایا: و تفسیر قرآن میں دخل دینا بہت نازک امر ہے۔مبارک اور سچا دخل اس کا ہے جو روح القدس سے مدد لے کر دخل دے اور نہ علوم مروجہ کا لکھناد نیا داروں کی چالاکیاں ہیں۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 505)