حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 757 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 757

757 باب نهم اصول تفسیر قرآن کریم پس اغراض نفسانیہ کے ساتھ زبان پر کیونکر احاطہ ہو سکے اور معارف قرآنیہ کیونکر حاصل ہو سکیں اور لغت عرب جو صرف نحو کی اصل کنجی ہے وہ ایک ایسا نا پیدا کنار دریا ہے جو اسکی نسبت امام شافعی رحمتہ اللہ کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا نَبی یعنی اس زبان کو اور ا سکے انواع اقسام کے محاورات کو بجزہ نبی کے اور کوئی شخص کامل طور پر معلوم ہی نہیں کر سکتا۔اس قول سے بھی ثابت ہوا کہ اس زبان پر ہر ایک پہلو سے قدرت حاصل کرنا ہر ایک کا کام نہیں بلکہ اس پر پورا احاطہ کرنا مجزات انبیاء علیہم السلام سے ہے۔(نزول المسیح - ر- خ - جلد 18 صفحہ 436) اے اسیر عقل خود برہستیءِ خود کم بناز کیں سپہر بوالعجائب چوں تو بسیار آورد اپنی عقل کے قیدی اپنی ہستی پر ناز نہ کر کہ یہ مجیب آسمان تیری طرح کے بہت سے آدمی لا یا کرتا ہے غیر را ہر گز نمی باشد گذر در کوئے حق ہر کہ آید ز آسماں اور از آن یار آورد خدا کے کوچہ میں غیر کو ہرگز دخل نہیں ہوتا جو آسمان سے آتا ہے وہی اس یار کے اسرار ہمراہ لاتا ہے خود بخود فهمیدن قرآن گمان باطل است هر که از خود آورد اونجس و مردار آورد آپ ہی آپ قرآن کو مجھ لینا ایک غلط خیال ہے جو شخص اپنے پاس سے اسکا مطلب پیش کرتا ہے وہ گندگی اور مردار ہی پیش کرتا ہے۔(برکات الدعا۔رخ - جلد 6 صفحہ 5 ) ( در نشین فارسی متر جم صفحه 196-195)