حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 755 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 755

755 دینی علم اور پاک معارف کے سمجھنے اور حاصل کرنے کے لئے پہلے کچی پاکیزگی کا حاصل کر لیتا اور ناپاکی کی راہوں کا چھوڑ دینا از بس ضروری ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ یعنی خدا کی پاک کتاب کی اسرار کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو پاک دل فطرت اور پاک عمل رکھتے ہیں۔دنیوی چالاکیوں سے آسمانی علم ہرگز حاصل نہیں ہو سکتے۔دست بچن - ر- خ - جلد 10 صفحہ 126) مکذبین کے دلوں پر خدا کی لعنت ہے خدا ان کونہ قرآن کا نور دکھلائے گا۔نہ بالمقابل دعا کی استجابت جواعلام قبل از وقت کے ساتھ ہواور نہ امور غیبی پر اطلاع دے گا لا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ (الجن:27,28) انجام آتھم رخ - جلد 11 صفحہ 303 حاشیہ) وليس هـذا الـمـوطـن الا للمتقين۔و لا تفتح هذه الابواب الا على الصالحين۔ولا يمسه الا الذي كان من المطهرين۔وان الله لا يهدى كيد الخائنين۔الذين يجعلون المكائد منتجعا۔والاكاذيب كهفا و مرجعا ولهم قلوب كليل اردف اذنابه۔وظلام مدالی مدی۔الابصار اطنابه۔لا يعلمون ما القرآن وما العلم ولاعرفان ومن لم يعلم القرآن وما اوتى البيان۔ترجمہ :۔یہ مقام بجز پر ہیز گاروں کے کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔اور یہ دروازہ صالحین کے سوا کسی کے لئے کھولا نہیں جاتا۔اور جب تک کسی کا ہاتھ پاک نہ ہو وہ وہاں نہیں پہنچ سکتا۔(انجام آتھم ر۔خ۔جلد 11 صفحہ 303 حاشیہ ) خدا تعالی خیانت کرنے والوں کو جنہوں نے دھوکا دہی کا پیشہ اختیار کیا ہے اور جھوٹ کی پناہ لے لی ہے۔تا کہ ضرورت کے وقت اس کو اختیار کیا جائے ہدایت نہیں دیتا۔ان کے دل ایک تاریک رات کی طرح سے ہیں جو اپنی ظلمت میں کامل ہو۔ان کو معلوم نہیں کہ قرآن کیا ہے۔اور جس کو قرآن کا علم اور بیان کی طاقت نصیب نہیں اس کا کیا علم اور کیا عرفان ہے۔هل العلم شی غیر تعلیم ربنا اعجاز اسی ر۔خ۔جلد 18 صفحہ 48) وای حــديـــث بــعــده نـتـخـيــر کیا وہ علم کوئی چیز ہے جسے ہمارے رب نے نہ سکھایا ہو اور کونسی بات ہم اس کے بعد اختیار کر سکتے ہیں؟ کتاب کــریـم احـکـمـت ایـاتـه وحياته يـحـيـى القلوب ويزهر وہ کتاب کریم ہے اس کی آیات محکم ہیں اور اس کی زندگی دلوں کو زندہ اور روشن کرتی ہے۔ويروى التقى هدى فينمو و يثمر يدع الشقى ولا يمس نكاته وہ بد بخت کو دھکے دیتی ہے اور وہ اس کے نکات کو نہیں چھوسکتا اور وہ پر ہیز گارکو ہدایت سے سیراب کرتی ہے سودہ نشو ونما پاتا ہے اور پھل دیتا ہے۔و متعنى من فيضه لطف خالقی اور میرے رب کی مہربانی نے اپنے فیض سے مجھے بہرہ ور کیا ہے۔میں اس کی کتاب کا شیر خوار ہوں اور اسکی حفاظت میں ہوں۔وانی رضیع کتابه و مخفر کریم فیوتى من يشاء علومه قدیر فكيف تكذبن و تهکر وہ کریم ہے۔وہ جسے چاہتا ہے اپنے علوم دیتا ہے وہ قدیر ہے۔سوتو (اس بات کی) کیسے تکذیب کرتا ہے اور کیسے (اس پر ) تعجب کرتا ہے۔کرامات الصادقین ر۔خ۔جلد 7 صفحہ 87) (القصائد الاحمدیہ صفحہ 68)