حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 754 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 754

754 کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اس کو پاوے جو جلتا ہے وہی مردے جلاوے جو مرتا ہے وہی زندوں میں جاوے ہے دور کا کب غیر کھاوے چلو اوپر کو ثمر وہ نیچے نہ آوے نہاں اندر نہاں ہے کون لاوے غریق عشق موتی اُٹھاوے وہ دیکھے نیستی رحمت دکھاوے مجھے تو نے یہ دولت اے خدا دی وہ خودی اور خودروی کب اس کو بھاوے فسبحان الذي اخزى الاعادي بشیر احمد۔شریف احمد اور مبارکہ بیگم کی آمین در شین اردو) فہم قرآن دنیا پرست کو نہیں ملتا لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : 80) عزیزاں بے خلوص وصدق نکشانید را ہے را مصفا قطره باید که تا گوہر شود پیدا اے عزیز و بغیر اخلاص اور سچائی کے کوئی راہ نہیں کھل سکتی مصفا قطرہ چاہیے تا کہ موتی پیدا ہو۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 546) علم دین آسمانی علوم میں سے ہے اور یہ علوم تقویٰ اور طہارت اور محبت الہیہ سے وابستہ ہیں اور سگ دنیا کو مل نہیں سکتے۔سو اس میں کچھ شک نہیں کہ قول موجہ سے اتمام حجت کرنا انبیاء اور مردان خدا کا کام ہے اور حقانی فیوض کا مورد ہونا فانیوں کا طریق ہے اور اللہ جل شانہ فرماتا ہے لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔پس کیونکر ایک گندہ اور منافق اور دنیا پرست ان آسمانی فیضوں کو پاسکتا ہے جن کے بغیر کوئی فتح نہیں ہو سکتی اور کیونکر اس دل پر روح القدس بول سکتا ہے جس میں شیطان بولتا ہو۔البلاغ-رخ- جلد 13 صفحہ 373-372) دوسرے علوم میں یہ شرط نہیں۔ریاضی، ہندسہ و ہیئت وغیرہ میں اس امر کی شرط نہیں کہ سیکھنے والاضر ور متقی اور پر ہیز گار ہو بلکہ خواہ کیسا ہی فاسق و فاجر ہو وہ بھی سیکھ سکتا ہے مگر علم دین میں خشک منطقی اور فلسفی ترقی نہیں کر سکتا اور اس پر وہ حقائق اور معارف نہیں کھل سکتے۔جس کا دل خراب ہے اور تقویٰ سے حصہ نہیں رکھتا اور پھر کہتا ہے کہ علوم دین اور حقائق اس کی زبان پر جاری ہوتے ہیں وہ جھوٹ بولتا ہے ہرگز ہرگز اسے دین کے حقائق اور معارف سے حصہ نہیں ملتا بلکہ دین کے لطائف اور نکات کے لئے متقی ہونا شرط ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 121)