حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 727
727 سوئم۔وحی متلو کے ساتھ ایک خفی وحی عنایت ہوتی ہے جو تمہیمات الہیہ سے نامزد ہوسکتی ہے یہ وحی ہے جسکو وحی غیر متلو کہتے ہیں اور متصوفہ اس کا نام وحی خفی اور وحی دل بھی رکھتے ہیں۔اس وحی سے یہ غرض ہوتی ہے کہ بعض مجملات اور اشارات وحی متلو کے منزل علیہ پر ظاہر ہوں۔سو یہ وہ تینوں چیزیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے اوتیت الکتاب کے ساتھ مثلہ کا مصداق ہیں۔اور ہر ایک رسول اور نبی اور محدث کو اس کی وحی کے ساتھ یہ تینوں چیزیں حسب مراتب اپنی اپنی حالت قرب کے دی جاتی ہیں۔چنانچہ اس بارے میں راقم تقریر ہذا صاحب تجربہ ہے یہ مویدات ثلثہ یعنے کشف اور رویا اور وحی خفی در اصل امور زائدہ نہیں ہوتے بلکہ وحی متلو کے جو متن کی طرح ہے مفسر اور مبین ہوتے ہیں۔فتدبر الحق بحث لدھیانہ - ر - خ- جلد 4 صفحہ 109-108) ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَبَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا (فاطر: 33) ہم نے کتاب کا وارث اپنے بندوں میں سے ان کو بنایا جن کو ہم نے چن لیا۔یعنی ان لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جیسے ایک مکان کی کل کھڑکیاں کھلی ہیں کہ کوئی گوشہ تاریکی کا اس میں نہیں اور روشنی خوب صاف اور کھلی آ رہی ہے۔اسی طرح ان کے مکالمہ کا حال ہوتا ہے ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 53 ) کہ اجلی اور بہت کثرت سے ہوتا ہے۔لہذا عند العقل یہ بات نہ صرف احسن بلکہ واجب ہے کہ خدا تعالیٰ کے پاک نبی جو شریعت اور کتاب لیکر آتے ہیں اور اپنے نفس میں تاثیر اور قوت قدسیہ رکھتے ہیں یا تو وہ ایک لمبی عمر لیکر آویں اور ہمیشہ اور ہر صدی میں ہر یک اپنی نئی امت کو اپنی ملاقات اور صحبت سے شرف پہنچا دیں جو انھوں نے ابتداء زمانہ میں پہنچائی تھی اور اگر ایسا نہیں تو پھر انکے وارث جو انھیں کے کمالات اپنے اندر رکھتے ہوں اور کتاب الہی کے دقائق اور معارف کو وحی اور الہام سے بیان کر سکتے ہوں اور منقولات کو مشہورات کے پیرایہ میں دکھلا سکتے ہوں اور طالب حق کو یقین تک پہنچا سکتے ہوں ہمیشہ فتنہ اور فساد کے وقتوں میں ضرور پیدا ہونے چاہیئے۔شہادت القران - ر-خ- جلد 6 صفحہ 345) دیں ھماں دیں بود که وحی ءِ خدا نشود زو به هیچ وقت جدا دین تو وہی دین ہوتا ہے جس سے خدا کی وحی کسی وقت بھی جدا نہ ہو۔وحی و دین خداست چون توام یک چوگم شد دگر شود گم هم وحی اور دین خدا چونکہ دونوں جڑواں چیزیں ہیں۔پس اگر ایک جاتی رہے گی تو دوسری بھی گم ہو جائے گی۔( نزول المسیح - ر-خ- جلد 18 صفحہ 482)