حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 717
717 خدا تعالیٰ کا یہی ارادہ تھا۔اس نے اپنے وعدہ کے موافق وقت پر اپنے دین کی خبر گیری اور دستگیری فرمائی ہے۔اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكُرَوَ إِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر :10) اسلام کو اس نے دنیا میں قائم کیا۔قرآن کی تعلیم پھیلائی اور اس کی حفاظت کا بھی وہی خود د ذمہ دار ہے۔جب انسان اپنے لگائے ہوئے بوٹے کو التزام سے پانی دیتا ہے تا وہ خشک نہ ہو جاوے تو کیا خدا انسان سے بھی گیا گزرا اور لا پرواہ ہے ؟ یاد رکھو کہ اسلام نے جن راہوں سے پہلے ترقی کی تھی اب بھی انہی راہوں سے ترقی کرے گا۔خشک منطق ایک ڈائن ہے اس سے انجان آدمی کے اعتقاد میں خلل آ جاتا ہے اور ظاہری فلسفے روحانی فلسفے کے بالکل مخالف ہیں۔صاحبان ! یہ امور ہیں جن کی اصلاح کے واسطے میں بھیجا گیا ہوں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه : 670 ) اے اسیر عقل خود بر هستی خود کم بناز کیں سپہر بوالعجائب جوں تو بسیار آورد اے اپنی عقل کے قیدی اپنی ہستی پر ناز نہ کر کہ یہ عجیب آسمان تیری طرح کے بہت سے آدمی لایا کرتا ہے غیر را ہرگز نمی باشد گذر در کوئے حق ہر کہ آید ز آسماں اور ا ز آن یار آورد خدا کے کوچہ میں غیر کو ہر گز دخل نہیں جو آسمان سے آتا ہے وہی اس یار کے اسرار ہمراہ لاتا ہے خود بخود فهمیدن قرآن گمان باطل است هر که از خود آورد اونجس و مردار آورد آپ ہی آپ قرآن کو سمجھ لینا ایک غلط خیال ہے جو شخص اپنے پاس سے اس کا مطلب بیان کرتا وہ گندگی اور مردار پیش کرتا ہے ( بركات الدعا: ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 5) فہم قرآن اور علماء عارف بااللہ اور اولیاء عظام جو علما عارف باللہ اور موید من اللہ ہوتے ہیں۔وہ بتائید روح القدس جملہ علوم کا استخراج قرآن مجید سے کر سکتے ہیں۔قال اللہ تعالى لَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِى كِتَبٍ مُّبِينٍ (الانعام: 60) وايضاً قال اللہ تعالیٰ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: 70) وايضا قال الله تعالى وَ عَلَّمْنَهُ مِنْ لَّدُنَّا علم الكهف : 66)۔اور علماء ظاہر کو یہ بات نصیب نہیں ہو سکتی ان کو البتہ اشد احتیاج طرف علوم رسمیہ اور فنون و رسیہ کی ہوتی ہے۔الحق مباحثہ دہلی۔۔۔خ۔جلد 4 صفحہ 294)