حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 716 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 716

716 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن اور قرآنی حکمت لوگوں کو سکھلاتا ہے اور پھر ایک جگہ اور فرماتا ہے وَلَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة: 80) یعنے قرآن کے حقائق و دقائق انھیں پر کھلتے ہیں جو پاک کئے گئے ہیں۔پس ان آیات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کے سمجھنے کے لیے ایک ایسے معلم کی ضرورت ہے جسکو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پاک کیا ہو۔اگر قرآن کے سیکھنے کیلئے معلم کی حاجت نہ ہوتی تو ابتدائے زمانہ میں بھی نہ ہوتی۔اور یہ کہنا کہ ابتدا میں تو حل مشکلات قرآن کے لئے ایک معلم کی ضرورت تھی لیکن جب حل ہو گئیں تو اب کیا ضرورت ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ حل شدہ بھی ایک مدت کے بعد پھر قابل حل ہو جاتی ہیں ماسوا ا سکے امت کو ہر ایک زمانہ میں نئی مشکلات بھی تو پیش آتی ہیں اور قرآن جامع جمیع علوم تو ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی زمانہ میں اسکے تمام علوم ظاہر ہو جائیں بلکہ جیسی جیسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ویسے ویسے قرآنی علوم کھلتے ہیں اور ہر یک زمانہ کی مشکلات کے مناسب حال ان مشکلات کو حل کر نیوالے روحانی معلم بھیجے جاتے ہیں جو وارث رسل ہوتے ہیں اور ظلی طور پر رسولوں کے کمالات کو پاتے ہیں اور جس مجدد کی کارروائیاں کسی ایک رسول کی منصبی کارروائیوں سے شدید مشابہت رکھتی ہیں وہ عند اللہ اسی رسول کے نام سے پکارا جاتا ہے۔کتاب کے ساتھ استاد کی ضرورت ( شہادت القران۔رخ۔جلد 6 صفحہ 347-348) نبی بھی ایک استاد ہوتا ہے جو کہ خدا کی کلام کو سمجھا کر اس پر عمل کرنے کا طریق بتلاتا ہے۔دیکھو میں الہام بیان کرتا ہوں تو ساتھ ہی تفہیم بیان کر دیتا ہوں اور یہ عادت نہ انسانوں میں دیکھی جاتی ہے نہ خدا میں۔کہ ایک علمی بات بیان کر کے پھر اسے عملدرآمد میں لانے کے واسطے نہ سمجھا وے۔جو استاد کا محتاج نہیں ہے وہ ضرور ٹھو کر کھائے گا۔جیسے طبیب بلا استاد کے طبابت کرے تو دھوکا کھاوے گا ایسے ہی جو شخص بلا توسل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اگر خود بخود قرآن سمجھتا ہے تو ضرور دھوکا کھاوے گا۔( ملفوظات۔جلد سوم صفحہ 413) کہتے ہیں اسلام کو کسی کی کیا ضرورت ہے جبکہ قرآن موجود ہے اور مولوی موجود ہیں یہ نہیں جانتے کہ ان کے مولوی جو ان بھیڑوں کے گلہ بان ہیں خود بھیڑیئے ہیں اور وہ ریوڑ کیسے خطرہ میں ہے جس کا کوئی گلہ بان نہ ہو۔اسلام پر اندرونی اور بیرونی حملے ہو رہے ہیں اور ماریں کھا رہا ہے۔پس ایسے شخص کی ضرورت تھی کہ مغالطے اور مشکلات دور کر کے پیچیدہ مسائل کو حل کر کے رستہ صاف کرتا ور اسلام کی اصلی روشنی اور سچا نور دوسری قوموں کے سامنے پیش کرتا۔دیکھو ایک وہ زمانہ تھا کہ عیسائی لوگ کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ کوئی پیشگوئی ہے نہ معجزہ۔مگراب میرے سامنے کوئی نہیں آتا حالانکہ ہم بلاتے ہیں۔