حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 715
715 علم دین آسمانی علوم میں سے ہے اور یہ علوم تقویٰ اور طہارت اور محبت الہیہ سے وابستہ ہیں اور سگ دنیا کومل نہیں سکتے۔سو اس میں کچھ شک نہیں کہ قول موجہ سے اتمام محبت کرنا انبیاء اور مردان خدا کا کام اور حقانی فیوض کا مورد ہونا فانیوں کا طریق ہے اور اللہ جل شانہ فرماتا ہے لا ی ه إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔(الواقعة : 80) پس کیونکر اُس دل پر روح القدس بول سکتا ہے جس میں شیطان بولتا ہو۔البلاغ یا فریاد درد - ر - خ - جلد 13 صفحہ 372-373) اور احادیث صحیحہ قرآن سے باہر نہیں۔کیونکہ وحی غیر متلو کی مدد سے وہ تمام مسائل قرآن سے مستخرج اور مستنبط کئے گئے ہیں۔ہاں یہ سچ ہے کہ وہ استخراج اور استباط بجز رسول اللہ یا اسی شخص کے جو ظلی طور پر ان کمالات تک پہنچ گیا ہو ہر ایک کا کام نہیں۔اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جن کو ظلی طور پر عنایات الہیہ نے وہ علم بخشا ہو جو اس کے رسول متبوع کو بخشا تھا وہ حقائق و معارف دقیقہ قرآن کریم پر مطلع کیا جاتا ہے۔الحق۔بحث لدھیانہ۔ر۔خ۔جلد 4 صفحہ 93) فہم قرآن اور امام ہائے ربانی اور معلمین باری تعالیٰ خوب یا درکھو کہ قلوب کی اصلاح اسی کا کام ہے جس نے قلوب کو پیدا کیا ہے۔نرے کلمات اور چرب زبانیاں اصلاح نہیں کر سکتی ہیں بلکہ ان کلمات کے اندر ایک روح ہونی چاہئے۔پس جس شخص نے قرآن شریف کو پڑھا اور اس نے اتنا بھی نہیں سمجھا کہ ہدایت آسمان سے آتی ہے تو اس نے کیا سمجھا ؟ الم يَأْتِكُمُ نذیر کا جب سوال ہوگا تو پتہ لگے گا۔اصل بات یہ ہے کہ خدارا بخدا تواں شناخت اور یہ ذریعہ بغیر امام نہیں مل سکتا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانوں کا مظہر اور اس کی تجلیات کا مورد ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں آیا ہے مَنْ لَّمْ يَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِهِ فَقَدُمَاتَ مِيْتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ یعنی جس نے زمانہ کے امام کو شناخت نہیں کیا وہ جہالت کی موت مر گیا۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 344-345) یہ بات بھی درست ہے کہ قرآن ہدایت کیلئے نازل ہوا ہے مگر قرآن کی ہدا یتیں اس شخص کے وجود کے ساتھ وابستہ ہیں جس پر قرآن نازل ہوا یا وہ شخص جو منجانب اللہ اس کا قائم مقام ٹھہرایا گیا اگر قرآن اکیلا ہی کافی ہوتا تو خدا تعالیٰ قادر تھا کہ قدرتی طور پر درختوں کے پتوں پر قرآن لکھا جا تایا لکھا لکھایا آسمان سے نازل ہو جاتا مگر خدا تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا بلکہ قرآن کو دنیا میں نہیں بھیجا جب تک معلم القرآن دنیا میں نہیں بھیجا گیا۔قرآن کریم کو کھول کر دیکھو کتنے مقام میں اس مضمون کی آیتیں ہیں کہ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (الجمعة: 3) یعنی وہ