حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 43
43 قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ۔فَبِذَالِكَ فَلْيَفْرَحُوْا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُوْنَ۔(سورة يونس:59) ان کو کہہ دے کہ خدائے تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے یہ قرآن ایک بیش قیمت مال ہے سو اس کو تم خوشی سے قبول کرو یہ ان مالوں سے اچھا ہے جو تم جمع کرتے ہو۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ علم و حکمت کی مانند کوئی مال نہیں یہ وہی مال ہے جس کی نسبت پیشگوئی کے طور پر لکھا تھا کہ مسیح دنیا میں آکر اس مال کو اس قدر تقسیم کرے گا کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں گے۔یہ نہیں کہ مسیح درم و دینار کو جو مصداق آیت انــمــا امــوالــكــم واولاد کم فتنة (التغابن: 16) ہے جمع کریگا اور دانستہ ہر ایک کو مال کثیر دے کر فتنہ میں ڈال دے گا۔مسیح کی پہلی فطرت کو بھی ایسے مال سے مناسبت نہیں وہ خود انجیل میں بیان کر چکا ہے کہ مومن کا مال درم ودینار نہیں بلکہ جواہر حقائق ومعارف اس کا مال ہیں۔یہی مال انبیاء خدائے تعالیٰ سے پاتے ہیں اور اس کو تقسیم کرتے ہیں۔اسی مال کی طرف اشارہ ہے کہ انما اناقاسم والله هو المعطی حدیثوں میں یہ بات بوضاحت لکھی گئی ہے کہ مسیح موعود اس وقت دنیا میں آئے گا کہ جب علم قرآن زمین پر سے اُٹھ جائیگا اور جہل شیوع پا جائے گا یہ وہی زمانہ ہے جس کی طرف ایک حدیث میں یہ اشارہ ہے لو كان الايمان معلقا عند الثريا لناله رجل من فارس۔یہ وہ زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا جو کمال طغیان اس کا اس سنہ ہجری میں شروع ہو گا جو آیت و انا علی ذهاب به لقادرون (المومنون: 19) میں بحساب جمل مخفی ہے یعنی 1274 ھ اس مقام کو غور سے دیکھو اور جلدی سے نکل نہ جاؤ اور خدا سے دعا مانگو کہ وہ تمہارے سینوں کو کھول دے۔آپ لوگ تھوڑے سے تامل کے ساتھ اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ حدیثوں میں یہ وارد ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن زمین سے اٹھا لیا جائے گا اور علم قرآن مفقود ہو جائے گا۔اور جہل پھیل جائے گا۔اور ایمانی ذوق اور حلاوت دلوں سے دور ہو جائیگی۔پھر ان حدیثوں میں یہ حدیث بھی ہے کہ اگر ایمان ثریا کے پاس بھی جاگھیرے گا یعنی زمین پر اس کا نام ونشان نہیں رہے گا تو ایک آدمی فارسیوں میں سے اپنا ہاتھ پھیلائے گا اور وہیں ثریا کے پاس سے اس کو لے لے گا۔اب تم خود سمجھ سکتے ہو کہ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جب جہل اور بے ایمانی اور ضلالت جو دوسری حدیثوں میں دخان کے ساتھ تعبیر کی گئی ہے دنیا میں پھیل جائیگی اور زمین میں حقیقی ایمانداری ایسی کم ہو جائے گی کہ گویا وہ آسمان پر اٹھ گئی ہوگی اور قرآن کریم ایسا متروک ہو جائے گا کہ گویا وہ خدائے تعالی کی طرف اٹھایا گیا ہوگا تب ضرور ہے کہ فارس کی اصل سے ایک شخص پیدا ہواور ایمان کوثریا سے لے کر پھر زمین پر نازل ہو۔سو یقیناً سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے۔(ازالہ اوہام۔رخ جلد 3 صفحہ 456-454)