حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 679 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 679

679 دیا ہے کہ دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا نہیں ہوگا بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ کسی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں بھی کوئی مثیل مسیح پیدا ہو جائے مگر خدائے تعالیٰ خوب جانتا ہے اور وہ اسبات کا شاہد حال ہے کہ اس نے قادیان کو دمشق سے مشابہت دی ہے اور ان لوگوں کی نسبت یہ فرمایا ہے کہ یہ یزیدی الطبع ہیں یعنی اکثر وہ لوگ جو اس جگہ رہتے ہیں وہ اپنی فطرت میں یزیدی لوگوں کی فطرت سے مشابہ ہیں۔(ازالہ اوہام - ر- خ - جلد 3 صفحہ 138 حاشیہ ) پادری عبد اللہ اتم کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔آپ لکھتے ہیں دلدل میں آفتاب کا غروب ہونا سلسلہ مجازات میں داخل نہیں مگر عین حمئة سے تو کالا پانی مراد ہے اور اس میں اب بھی لوگ یہی نظارہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں اور مجازات کی بنا مشاہدات عینیہ پر ہے جیسے ہم ستاروں کو بھی نقطہ کے موافق کہہ دیتے ہیں اور آسمان کو کبود رنگ کہہ دیتے ہیں اور زمین کو ساکن کہ دیتے ہیں پس جبکہ انہیں اقسام میں سے یہ بھی ہے تو اس سے کیوں انکار کیا جائے۔(جنگ مقدس۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 287-288) وَ قَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصْرَى نَحْنُ اَبْنَوا اللَّهِ وَاحِبَّاؤُهُ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بذُنُوبِكُمْ بَلْ أَنْتُمُ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاءُ وَلِلَّهِ ملك السَّمواتِ وَالْأَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا وَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ۔(المائده: 19) اللہ تعالیٰ نے جو ہم کو مخاطب کیا ہے کہ انتَ مِنَى بِمَنْزِلَةِ أَوْلَادِی۔اس جگہ یہ تو نہیں کہا کہ تو میری اولاد ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ بمنزلہ اولاد کے ہے یعنی اولاد کی طرح ہے اور دراصل یہ عیسائیوں کی اس بات کا جواب ہے جو وہ حضرت عیسی کو حقیقی طور پر ابن اللہ مانتے ہیں۔حالانکہ خدا کی کوئی اولاد نہیں اور خدا نے یہودیوں کے اس قول کا عام طور پر کوئی رڈ نہیں کیا جو کہتے تھے۔کہ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللهِ وَاحِبَّاؤُهُ۔(المائدہ: 19) بلکہ یہ ظاہر کیا ہے تم ان ناموں کے مستحق نہیں ہو۔دراصل یہ ایک محاورہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے برگزیدوں کے حق میں اکرام کے طور پر ایسے الفاظ بولتا ہے جیسا کہ حدیثوں میں ہے کہ میں اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں اور میں اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں اور جیسا کہ حدیثوں میں ہے کہ اے بندے میں پیاسا تھا تو نے مجھے پانی نہ دیا اور میں بھوکا تھا تو نے مجھے روٹی نہ دی۔ایسا ہی توریت میں بھی لکھا ہے کہ یعقوب خدا کا فرزند بلکہ تخت زادہ ہے۔سو یہ سب استعارے ہیں۔جو عام طور پر خدا تعالیٰ کی عام کتابوں میں پائے جاتے ہیں اور احادیث میں ہے۔اور خدا تعالیٰ نے یہ الفاظ میرے حق میں اسی واسطے استعمال کیے ہیں کہ تا عیسائیوں کا رڈ ہو۔کیونکہ باوجود ان لفظوں کے میں کبھی ایسا دعویٰ نہیں کرتا۔کہ نعوذ باللہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔بلکہ ایسا دعویٰ کرنا کفر سمجھتے ہیں اور ایسے الفاظ جو انبیاء کے حق میں خدا تعالیٰ نے بولے ہیں ان میں سب سے زیادہ اور سب سے بڑاعزت کا خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا۔قُلْ لِعِبَادِی جس کے معنے ہیں کہ اے میرے بندو! اب ظاہر ہے۔کہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کے بندے تھے نہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بندے اس فقرہ سے ثابت ہوتا کہ ایسے الفاظ کا اطلاق استعارہ کے رنگ میں کہاں تک وسیع ہے۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 356)