حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 678 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 678

678 واضح رہے کہ قرآن شریف میں الناس کا لفظ بمعنی دقبال معہود بھی آتا ہے اور جس جگہ ان معنوں کو قرینہ قویہ متعین کرے تو پھر اور معنے کرنا معصیت ہے چنانچہ قرآن شریف کے ایک اور مقام میں الناس کے معنے دجال ہی لکھا ہے اور وہ یہ لَخَلْقُ السَّمواتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ (المؤمن: 58) یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں اسرار اور عجائبات پر ہیں دجال معہود کی طبائع کی بناوٹ اس کے برابر نہیں۔یعنی گووہ لوگ اسرار زمین و آسمان کے معلوم کرنے میں کتنی ہی جان کا ہی کریں اور کیسی ہی طبع وقا دلاویں پھر بھی ان کی طبیعتیں ان اسرار کے انتہاء تک پہنچ نہیں سکتیں۔یادر ہے کہ اس جگہ بھی مفسرین نے الناس سے مرادد جال معہود ہی لیا ہے دیکھو تفسیر معالم وغیرہ۔اور قرینہ تو یہ اس پر یہ ہے کہ لکھا ہے کہ دجال معہود اپنی ایجادوں اور صنعتوں سے خدا تعالیٰ کے کاموں پر ہاتھ ڈالے گا اور اس طرح پر خدائی کا دعوی کرے گا اور اس بات کا سخت حریص ہو گا کہ خدائی باتیں جیسے بارش برسانا اور پھل لگانا اور انسان وغیرہ حیوانات کی نسل جاری رکھنا اور سفر اور حضر اور صحت کے سامان فوق العادت طور پر انسان کے لئے مہیا کرنا ان تمام باتوں میں قادر مطلق کی طرح کا رروائیاں کرے اور سب کچھ اس کے قبضہ قدرت میں ہو جائے اور کوئی بات اس کے آگے انہونی نہ رہے اور اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ۔جلد 17 صفحہ 120) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِايَتِهِ ط إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّلِمُونَ (الانعام: 22) ظالم سے مراد اس جگہ کا فر ہے اس پر قرینہ یہ ہے کہ مفتری کے مقابل پر مکذب کتاب اللہ کو ظالم ٹھہرایا ہے اور بلا شبہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کرتا ہے کا فر ہے سو جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دیکر مجھے کا فر ٹھہراتا ہے۔اس لیے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کا فر بنتا ہے۔(حقیقۃ الوحی۔رخ - جلد 22 صفحہ 167 حاشیہ ) مجازی معانی۔یعنی استعارہ اور تشبیہہ کی تعریف اور حدود اب پہلے ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ خدا تعالے نے مجھ پر یہ ظاہر فرما دیا ہے کہ یہ قصبہ قادیان بوجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں دمشق سے ایک مناسبت اور مشابہت رکھتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات ایک ادنے مماثلت کی وجہ سے بلکہ صرف ایک جزو میں مشارکت کے باعث سے ایک چیز کا نام دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں مثلاً ایک بہادر انسان کو کہہ دیتے ہیں کہ یہ شیر ہے اور شیر نام رکھنے میں یہ ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ شیر کی طرح اس کے پنجے ہوں اور ایسی ہی بدن پر پشم ہو اور ایک دم بھی ہو بلکہ صرف صفت شجاعت کے لحاظ سے ایسا اطلاق ہو جاتا ہے اور عام طور پر جمیع انواع استعارات میں یہی قاعدہ ہے۔سو خدائے تعالیٰ نے اسی عام قاعدہ کے موافق اس قصبہ قادیان کو دمشق سے مشابہت دی اور اسبارہ میں قادیان کی نسبت مجھے یہ بھی الہام ہوا کہ اخرج منه اليزيديون یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔اب اگر چہ میرا یہ دعویٰ تو نہیں اور نہ ایسی کامل تصریح سے خدائے تعالے نے میرے پر کھول