حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 661
661 يوم يقوم الروح والملائكة صفا لا يتكلمون الا من اذن له الرحمن وقال صوابا۔(النبا: 39) ترجمہ :۔اس روز یعنی قیامت کے دن روح اور فرشتے کھڑے ہونگے اور شفاعت کے بارے میں کوئی بول نہیں سکے گا مگر وہی جسکو خدا تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملے اور کوئی نالائق شفاعت نہ کرے۔والقى فى روعى ان المراد من لفظ الروح فى أية يوم يقوم الروح جماعة الرسل و النبيين والمحدثين اجمعين الذين يلقى الروح عليهم ويجعلون مکلمین و اما ذکر هم بلفظ الروح لا بلفظ الارواح فاعلم انه قد يذكر الواحد في القران ويرادمنه الجمع وبالعكس سنة قد جرت في كتاب مبين۔ترجمہ :۔اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس آیت میں لفظ روح سے مراد رسولوں اور نبیوں اور محدثوں کی جماعت ہے جن پر روح القدس ڈالا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ہمکلام ہوتے ہیں مگر یہ شبہ کہ روح کے لفظ سے ان کو یاد کیا ارواح کے لفظ سے کیوں یاد نہیں کیا۔پس جان کہ قرآن کا محاورہ ایسا ہے کہ کبھی وہ واحد کے لفظ سے جمع مراد لے لیتا ہے اور کبھی جمع سے واحد ارادہ رکھتا ہے یہ قرآن شریف کی ایک عادت مستمرہ ہے۔(نور الحق۔۔۔خ۔جلد 8 صفحہ 98) خدا کا کلام صیغہ واحد اور جمع خدا تعالیٰ جب توحید کے رنگ میں بولے تو وہ بہت ہی پیار اور محبت کی بات ہوتی ہے اور واحد کا صیغہ محبت کے مقام پر بولا جاتا ہے۔جمع کا صیغہ جلالی رنگ میں آتا ہے جہاں کسی کو سزا دینی ہوتی ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 413) ماضی۔مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے جس شخص نے کا فیہ یا ہدایت الخوبھی پڑھی ہوگی وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے بلکہ ایسے مقامات میں جبکہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقینی الوقوع ہو مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں تا کہ اس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو۔اور قرآن شریف میں اس کی بہت نظیریں ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ونفخ في الصورفا ذاهم من الأجداث الى ربهم ينسلون (يس:52) اور جیسا کہ فرماتا ہے۔واذ قال الله یا عیسی ابن مریم ء انت قلت للناس اتخذونی و امى الهين من دون الله (المائده : 117) قال الله هذا يوم ينفع الصادقين صدقهم (المائده: 120) اور جیسا کہ فرماتا ہے۔ونزعنا ما في صدورهم من غل اخوانا على سرر متقابلین (الحجر: (48) اور جیسا کہ فرماتا ہے۔ونادی اصحاب الجنة اصحاب النار ان قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا فهل وجد تم ماوعد ربكم حقا قالوا نعم (الاعراف: 45) اور جیسا کہ فرماتا ہے۔تبت یدا ابي لهب وتـب مـا اغـنـي عنه ماله و ما كسب اللهب :2-3) اور جیسا کہ فرماتا ہے۔ولو ترى اذو قفوا على النار (الانعام: 28) اور جیسا کہ فرماتا ہے۔ولو ترى اذو قفوا على ربهم قال اليس هذا بالحق قالوا بلى و ربنا۔(الانعام: (31)