حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 626
626 إِنَّ الصَّلوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتبًا مَّوْقُوتًا۔(النساء : 104) میں طبعا اور فطرتا اس کو پسند کرتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے۔اور نماز موقونہ کے مسئلہ کو بہت ہی عزیز رکھتا ہوں بلکہ سخت مطر میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے اگر چہ شیعوں نے اور غیر مقلدوں نے اس پر بڑے بڑے مباحثے کیسے ہیں مگر ہم کو ان سے کوئی غرض نہیں۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 45) نماز عربی زبان میں پڑھنی چاہیے نماز اپنی زبان میں نہیں پڑھنی چاہیے۔خدا تعالیٰ نے جس زبان میں قرآن شریف رکھا ہے۔اس کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ہاں اپنی حاجتوں کو اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے سامنے بعد مسنون طریق اور اذکار کے بیان کر سکتے ہیں ، مگر اصل زبان کو ہرگز نہیں چھوڑ نا چاہیے۔عیسائیوں نے اصل زبان کو چھوڑ کر کیا پھل پایا۔کچھ بھی باقی نہ رہا۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 216) ارکان نماز کی حکمت ارکان نماز دراصل روحانی نشست و برخاست ہیں۔انسان کو خدا تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑتا ہے اور قیام بھی آداب خدمتگاران میں سے ہے۔رکوع جو دوسرا حصہ ہے۔بتلاتا ہے کہ گویا تیاری ہے کہ وہ تعمیل حکم کوکس قدر گردن جھکاتا ہے اور سجدہ کمال آداب اور کمال تذلیل اور نیستی کو جو عبادت کا مقصود ہے ظاہر کرتا ہے۔یہ آداب اور طرق ہیں جو خدا تعالیٰ نے بطور یادداشت کے مقرر کر دئے ہیں اور جسم کو باطنی طریق سے حصہ دینے کی خاطر ان کو مقرر کیا ہے علاوہ ازیں باطنی طریق کے اثبات کی خاطر ایک ظاہری طریق بھی رکھ دیا ہے۔اب اگر ظاہری طریق میں ( جو اندرونی اور باطنی طریق کا ایک عکس ہے۔صرف نقال کی طرح نقلیں اتاری جاویں اور اسے ایک بارگراں سمجھ کر اتار پھینکنے کی کوشش کی جاوے تو تم ہی بتلاؤ۔اس میں کیا لذت اور حظ آ سکتا ہے اور جب تک لذت اور سرور نہ آئے اس کی حقیقت کیونکر متفق ہوگی اور یہ اس وقت ہو گا جب کہ روح بھی ہمہ نیستی اور تذلل تام ہو کر آستانہ الوہیت پر گرے اور جو زبان بولتی ہے روح بھی بولے اس وقت ایک سرور اور نوراور تسکین حاصل ہو جاتی ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحه 105-104) (نمازوں میں تعداد رکعات کے متعلق فرمایا۔) اس میں اللہ تعالیٰ نے اور اسرار رکھے ہیں جو شخص نماز پڑھے گا وہ کسی نہ کسی حد پر تو آخر ر ہے گا ہی اور اسی طرح پر ذکر میں بھی ایک حد تو ہوتی ہے لیکن وہ حدوہی کیفیت اور ذوق و شوق ہوتا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے جب وہ پیدا ہو جاتی ہے تو وہ بس کر جاتا ہے۔دوسرے یہ بات حال والی ہے قال والی نہیں جو شخص اس میں پڑتا ہے وہی سمجھ سکتا ہے۔اصل غرض ذکر الہی سے یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کرے اور اسے اپنے سامنے دیکھتا رہے اس طریق پر وہ گنا ہوں سے بچارہے گا۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 15)