حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 609 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 609

609 نعوذ باللہ ملعون ہیں اور ان کا رفع خدا کی طرف نہیں ہوا۔پس اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ یہود کے اس وہم کو دور کرے اور عیسی علیہ السلام کو اس بہتان سے بری ٹھہرائے سو اس لیے فرمایا کہ۔وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ۔(النساء: 158) خدا تعالیٰ کے اس کلام کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی شان صلیب پر مارے جانے اور اس کے نتیجہ یعنی ملعونیت اور عدم رفع سے پاک ہے بلکہ انہوں ( یعنی حضرت عیسی ) نے اپنی طبعی موت سے وفات پائی تھی اور مقرب الی اللہ لوگوں کی طرح ان کا بھی خدا تعالے کی طرف رفع ہوا تھا اور آپ ہرگز ملعون لوگوں میں سے نہیں تھے اور اس سبب سے اللہ تعالے نے ( قرآن مجید میں ) حضرت عیسی علیہ السلام کے صلیب پر وفات نہ پانے کے قصہ کو بیان کیا ہے۔اور انہیں لوگوں کے الزام سے بری قرار دیا ہے وگر نہ اس قصہ کے بیان کی کونسی ضرورت مقتضی تھی۔قتل کے ذریعہ انبیاء کا وفات پانا ان کی تنقیص اور کسر شان اور ان کی عزت کے منافی نہیں ہوتا۔اور کئی ایک نبی اللہ تعالیٰ کے راستہ میں قتل کیے گئے جیسے پیچی علیہ السلام اور ان کے باپ زکریا علیہ السلام۔پس غور کرو اور ہدایت یافتہ لوگوں کا طریق تلاش کرو اور گمراہ ہونے والوں کے ساتھ نہ بیٹھو۔قتل انبیاء توریت میں لکھا ہے کہ جھوٹا نبی قتل کیا جاوے گا اس کا فیصلہ یہ ہے کہ اگر قرآن کی نص صریح سے پایا جاوے یا حدیث کے تواتر سے ثابت ہو کہ نبی قتل ہوتے رہے ہیں تو پھر ہم کو اس سے انکار نہیں کرنا پڑے گا۔بہر حال یہ کچھ ایسی بات نہیں کہ نبی کی شان میں خلل انداز ہو کیونکہ قتل بھی شہادت ہوتی ہے۔مگر ہاں نا کام قتل ہو جانا انبیاء کی علامات میں سے نہیں۔یہ مصالح پر موقوف ہے کہ ایک شخص کے قتل سے فتنہ برپا ہوتا ہے تو مصلحت البہی نہیں چاہتی کہ اس کو قتل کرا کر فتنہ برپا کیا جاوے۔جس کے قتل سے ایسا اندیشہ نہ ہو اس میں ہر ج نہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 261 )