حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 600
600 انتخاب انبیاء ذراغور کرنے سے انسان سمجھ سکتا ہے کہ جسے خدا تعالیٰ مامور کرتا ہے ضرور ہے کہ اس کے لیے اجتبا اور اصطفا ہو اور کچھ نہ کچھ اس میں ضرور خصوصیت چاہیئے کہ خدا تعالیٰ کل مخلوق میں سے اسے برگزیدہ کرے۔خدا کی نظر خطا جانے والی نہیں ہوتی۔پس جب وہ کسی کو منتخب کرتا ہے وہ معمولی آدمی نہیں ہوتا۔قرآن شریف میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (الانعام: 125)۔آنحضرت کی فضیلت تمام انبیاء پر ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 547) وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَ رَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا اَنْفُسَهُمْ وَ مَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ وَ اَنْزَلَ اللهُ عَلَيْكَ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَ كَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا۔(النساء:114) وَ كَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا۔یعنی تیرے پر خدا کا سب سے زیادہ فضل ہے اور کوئی نبی تیرے اور مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا۔یہی تعریف بطور پیشگوئی زبور باب 45 میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں موجود ہے جیسا کہ فرمایا کہ خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تجھے معطر کیا۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 606 حاشیه در حاشیہ نمبر (3) حقیقت یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسی فضیلت ہے جو کسی نبی میں نہیں ہے میں اس کو عزیز رکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کو جو شخص بیان نہیں کرتاوہ میرے نزدیک کافر ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 19) یعنی خدا تعالیٰ نے تجھ کو وہ علوم عطا کیے جو تو خود بخود نہیں جان سکتا تھا اور فضل الہی سے فیضان الہی سب سے زیادہ تیرے پر ہوا یعنی تو معارف الہیہ اور اسرار اور علوم ربانی میں سب سے بڑھ گیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی معرفت کے عطر کے ساتھ سب سے زیادہ تجھے معطر کیا غرض علم اور معرفت کو خدا تعالیٰ نے حقیقت اسلامیہ کے حصول کا ذریعہ ٹھہرایا ہے۔آئینہ کمالات اسلام۔رخ۔جلد 5 صفحہ 187) وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا نام اس کا ہے محمد دلبر مرا یہی ہے سب پاک ہیں پیمبر اک دوسرے سے بہتر لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ ہی ہے یار لامکانی وہ دلبر نہانی دیکھا ہے ہم نے اس سے بس راہ نما یہی ہے وہ آج شاہِ دیں ہے وہ تاج مرسلیں ہے وہ طیب و امیں ہے اس کی ثنا یہی ہے وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: 4) وہ روحانی زندگی کے لحاظ سے ہم تمام نبیوں میں سے اعلیٰ درجے پر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ سمجھتے ہیں اور قرآن شریف کی آیت میں اس زندگی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اس کا یہی مطلب ہے کہ جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے باطنی فیض پایا ایسا ہی آخری زمانہ میں ہوگا کہ مسیح موعود اور اس کی جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پائے گی جیسا کہ اب ظہور میں آ رہا ہے۔تبلیغ رسالت ( مجموعہ اشتہارات ) جلد نهم صفحه 16)