حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 578
578 اللَّهُ الَّذِى رَفَعَ السَّمَواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِى لَاَجَلٍ مُّسَمًّى يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَتِ لَعَلَّكُمُ بِلِقَاءِ رَبِّكُمُ تُوقِنُونَ۔(الرعد: 3) تمہارا خداوہ خدا ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کیا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اور پھر اس نے عرش پر قرار پکڑا۔اس آیت کے ظاہری معنے کے رو سے اس جگہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پہلے خدا کا عرش پر قرار نہ تھا اس کا یہی جواب ہے کہ عرش کوئی جسمانی چیز نہیں ہے بلکہ وراء الوراء ہونے کی ایک حالت ہے جو اس کی صفت ہے پس جب کہ خدا نے زمین و آسمان اور ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور کلی طور پر اپنے نور سے سورج چاند اور ستاروں کونور بخشا اور انسان کو بھی استعارہ کے طور پر اپنی شکل پر پیدا کیا اور اپنے اخلاق کریمہ اس میں پھونک دیئے تو اس طور سے خدا نے اپنے لئے ایک تشبیہ قائم کی مگر چونکہ وہ ہر ایک تشبیہ سے پاک ہے اس لئے عرش پر قرار پکڑنے سے اپنے منہ کا ذکر کر دیا۔خلاصہ یہ کہ وہ سب کچھ پیدا کر کے پھر مخلوق کا عین نہیں ہے بلکہ سب سے الگ اور وراء الوراء مقام پر ہے۔(چشمہ معرفت-رخ- جلد 23 صفحہ 277) صفات باری تعالیٰ نوبت به نوبت طلوع کرتی ہیں یادر ہے کہ جس طرح ستارے ہمیشہ نوبت به نوبت طلوع کرتے رہتے ہیں اسی طرح خدا کے صفات بھی طلوع کرتے رہتے ہیں کبھی انسان خدا کے صفات جلالیہ اور استغنائے ذاتی کی پر تو ہ کے نیچے ہوتا ہے اور کبھی صفات جمالیہ کا پر وہ اس پر پڑتا ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَانِ (الرحمن: 30)۔پس یہ سخت نادانی کا خیال ہے کہ ایسا گمان کیا جائے کہ بعد اس کے کہ مجرم لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔پھر صفات کرم اور رحم ہمیشہ کے لئے معطل ہو جائیں گی اور کبھی ان کی تجلی نہیں ہوگی کیونکہ صفات الہیہ کا تطل ممتنع ہے بلکہ حقیقی صفت خدا تعالیٰ کی محبت اور رحم ہے اور وہی اتم الصفات ہے اور وہی کبھی انسانی اصلاح کے لئے صفات جلالیہ اور غصبیہ کے رنگ میں جوش مارتی ہے اور جب اصلاح ہو جاتی ہے تو محبت اپنے رنگ میں ظاہر ہو جاتی ہے اور پھر بطور موہبت ہمیشہ کے لئے رہتی ہے۔خدا ایک چڑ چڑے انسان کی طرح نہیں ہے جو خواہ نخواہ عذاب دینے کا شائق ہو۔اور وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ اپنے پر آپ ظلم کرتے ہیں۔اس کی محبت میں تمام نجات اور اس کو چھوڑنے میں تمام عذاب ہے۔صفات باری تعالیٰ از لی اور ابدی ہیں (چشمہ مسیحی۔رخ - جلد 20 صفحہ 370-369) وہ (خدا) اور اس کی صفات قدیم ہی سے ہیں مگر اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ ہر ایک صفت کا علم ہم کو دے دے اور نہ اس کے کام اس دنیا میں سما سکتے ہیں۔خدا کے کلام میں دقیق نظر کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ وہ ازلی اور ابدی ہے اور مخلوقات کی ترتیب اس کے ازلی ہونے کی مخالف نہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحه 70)