حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 573 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 573

573 ( ملفوظات جلد اول صفحہ 472-471) قرآن کریم کی صاف تعلیم یہ ہے کہ وہ خداوند وحید وحمید جو بالذات تو حید کو چاہتا ہے اس نے اپنی مخلوق کو نتشارک الصفات رکھا ہے اور بعض کو بعض کا مثیل اور شبیہہ قرار دیا ہے تا کسی فرد خاص کی کوئی خصوصیت جو ذات و افعال و اقوال اور صفات کے متعلق ہے اس دھو کہ میں نہ ڈالے کہ وہ فرد خاص اپنے بنی نوع سے بڑھ کر ایک ایسی خاصیت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص نہ اصلا نہ ظلاً اس کا شریک نہیں اور خدا تعالی کی طرح کسی اپنی صفت میں واحد لا شریک ہے چنانچہ قرآن کریم میں سورۃ اخلاص اسی بھید کو بیان کر رہی ہے کہ احدیت ذات وصفات خدا تعالیٰ کا خاصہ ہے۔دیکھو اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ( آئینہ کمالات اسلام۔رخ - جلد 5 صفحہ 45-44) نصاری کا فتنہ سب سے بڑا ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ایک سورت قرآن شریف کی تو ساری کی ساری صرف ان کے متعلق خاص کر دی ہے یعنی سورۃ اخلاص اور کوئی سورت ساری کی ساری کسی قوم کے واسطے خاص نہیں ہے۔احد خدا کا اسم ہے اور احد کا مفہوم واحد سے بڑھ کر ہے۔صمد کے معنی ہیں ازل سے غنی بالذات جو بالکل محتاج نہ ہو۔اقنوم ثلثہ کے ماننے سے وہ محتاج پڑتا ہے۔خوب یادرکھو اور پھر یاد رکھو! کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے۔نماز اور تو حید کچھ ہی ہو کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے اسی وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اس میں نیتی اور تذلیل کی روح اور حنیف دل نہ ہو! سنو!وہ دعا جس کے لیے اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمُ (المومن (61) فرمایا ہے اس کے لیے یہی کچی روح مطلوب ہے۔اگر اس تضرع اور خشوع میں حقیقت کی روح نہیں تو وہ ٹیں ٹیں سے کم نہیں ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 31) لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَ هُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ۔(الانعام: 104) خدا تعالیٰ کی ذات تو مخفی در مخفی اور غیب در غیب اور وراء الوراء ہے اور کوئی عقل اس کو دریافت نہیں کر سکتی۔جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِکُ الابصار یعنی بصارتیں اور بصیر تیں اس کو پانہیں سکتیں اور وہ ان کے انتہا کو جانتا ہے اور ان پر غالب ہے۔پس اس کی توحید محض عقل کے ذریعہ سے غیر ممکن ہے کیونکہ توحید کی حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ انسان آفاقی باطل معبودوں سے کنارہ کرتا ہے یعنی بتوں یا انسانوں یا سورج چاند وغیرہ کی پرستش سے دستکش ہوتا ہے ایسا ہی انفسی باطل معبودوں سے پر ہیز کرے یعنی اپنی روحانی جسمانی طاقتوں پر بھروسہ کرنے سے اور ان کے ذریعہ سے عجب کی بلا میں گرفتار ہونے سے اپنے تئیں بچاوے پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ بجز ترک خودی اور رسول کا دامن پکڑنے کے توحید کامل حاصل نہیں ہو سکتی اور جو شخص اپنی کسی قوت کو شریک باری ٹھہراتا ہے وہ کیونکر موحد کہلا سکتا ہے۔(حقیقۃ الوحی -ر خ- جلد 22 صفحہ 148-147) بجز اس طریق کے کہ خدا خود ہی بجلی کرے اور کوئی دوسرا طریق نہیں ہے جس سے اس کی ذات پر یقین کامل حاصل ہو لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ سے بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ ابصار پر وہ آپ ہی روشنی ڈالے تو ڈالے۔ابصار کی مجال نہیں ہے کہ خود اپنی قوت سے اسے شناخت کر لیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 480)