حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 31 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 31

31 میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہزار ہانشان میرے اطمینان کے لئے میرے پر ظاہر ہوئے ہیں جن میں سے بعض کو میں نے لوگوں کو بتایا اور بعض کو بتایا بھی نہیں اور میں نے دیکھا کہ یہ نشان خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔اور کوئی دوسرا بجز اس وحدہ لاشریک کے ان پر قادر نہیں۔اور مجھ کو ماسواء اس کے علم قرآن دیا گیا اور احادیث کے صحیح معنے میرے پر کھولے گئے۔پھر میں ایسی روشن راہ کو چھوڑ کر ہلاکت کی راہ کیوں اختیار کروں؟ جو کچھ میں کہتا ہوں علی وجہ البصیرت کہتا ہوں اور جو کچھ آپ لوگ کہتے ہیں وہ صرف ظن ہے۔اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئاً (النجم : 29) اور اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے ایک اندھا ایک اونچی نیچی زمین میں تاریکی میں چلتا ہے اور نہیں جانتا کہ کہاں قدم پڑتا ہے۔سو میں اس روشنی کو چھوڑ کر جو مجھ کودی گئی ہے تاریکی کو کیونکر لے لوں۔جبکہ میں دیکھتا ہوں کہ خدا میری دعائیں سنتا اور بڑے بڑے نشان میرے لئے ظاہر کرتا اور مجھے سے ہم کلام ہوتا اور اپنے غیب کے اسرار پر مجھے اطلاع دیتا ہے اور دشمنوں کے مقابل پر اپنے قومی ہاتھ کے ساتھ میری مدد کرتا ہے اور ہر میدان میں مجھے فتح بخشتا ہے۔اور قرآن شریف کے معارف اور حقائق کا مجھے علم دیتا ہے تو میں ایسے قادر اور غالب خدا کو چھوڑ کر اس کی جگہ کس کو قبول کرلوں۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 297,298) حضرت اقدس اپنے وقت کے آدم تھے اب وہ ابن مریم جس کا روحانی باپ زمین پر بجر معلم حقیقی کے کوئی نہیں۔جو اس وجہ سے آدم سے بھی مشابہت رکھتا ہے بہت سا خزانہ قرآن کریم کا لوگوں میں تقسیم کرے گا۔یہاں تک کہ لوگ قبول کرتے کرتے تھک جائیں گے اور لا یقبلہ احد کا مصداق بن جائیں گے۔اور ہریک طبیعت اپنے ظرف کے مطابق پر ہو جائے گی۔وہ خلافت جو آدم سے شروع ہوئی تھی۔خدائے تعالیٰ کی کامل اور بے تغیر حکمت نے آخر کار آدم پر ہی ختم کر دی۔یہی حکمت اس الہام میں ہے کہ اَرَدْتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ آدَمَ یعنی میں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں سو میں نے آدم کو پیدا کر دیا۔چونکہ استدارت زمانہ کا یہی وقت ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ اس پر ناطق ہیں اس لئے خدا تعالیٰ نے آخر اور اول کے لفظ کو ایک ہی کرنے کے لئے آخری خلیفہ کا نام آدم رکھا۔اور آدم اور عیسی میں کسی وجہ سے روحانی مبائت نہیں۔بلکہ مشابہت ہے إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ (ال عمران: 60) (ازالہ اوہام - رخ جلد 3 صفحہ 467) غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے وہ ہمارا ہو گیا اس کے ہوئے ہم جاں نثار میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراھیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار اک شجر ہوں جسکو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب احمد جس یہ میرا سب مدار روخته آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار سر سے میرے پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں اے مرے بد خواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پہ وار ( در شین اردو ) ( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 133) گر نہ ہوتا نام