حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 561
561 موقعہ پر سود کا روپیہ لگانا جائز ہے کیونکہ ہر ایک مال خدا کا ہے۔اور اس طرح پر وہ خدا کے ہاتھ میں جائے گا۔مگر بایں ہمہ اضطرار کی حالت میں ایسا ہو گا۔اور بغیر اضطرار یہ بھی جائز نہیں۔۔۔ہمارا منشاء صرف یہ ہے کہ اضطراری حالت میں جب خنزیر کھانے کی اجازت نفسانی ضرورتوں کے واسطے جائز ہے۔تو اسلام کی ہمدردی کے واسطے اگر انسان دین کو ہلاکت سے بچانے کے واسطے سود کے روپے کو خرچ کر لے۔تو کیا قباحت ہے۔یہ اجازت مختص المقام اور مختص الزمان ہے۔یہ نہیں کہ ہمیشہ کے واسطے اس پر عمل کیا جائے۔جب اسلام کی نازک حالت نہ رہے۔تو پھر اس ضرورت کے واسطے بھی سود لینا ویسا ہی حرام ہے۔کیونکہ دراصل سود کا عام حکم تو حرمت ہی ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 373 حاشیہ ) انشورنس اور بیمہ انشورنس اور بیمہ پر سوال کیا گیا فرمایا۔کہ سود اور قمار بازی کو الگ کر کے دوسرے اقراروں اور ذمہ داریوں کو شریعت نے صحیح قرار دیا ہے قمار بازی میں ذمہ داری نہیں ہوتی۔دنیا کے کاروبار میں ذمہ داری کی ضرورت ہے۔دوسرے ان تمام سوالوں میں اس امر کا خیال بھی رکھنا چاہیے کہ قرآن شریف میں حکم ہے کہ بہت کھوج نکال نکال کر مسائل نہ پوچھنے چاہئیں۔مثلاً اب کوئی دعوت کھانے جاوے تو اب اسی خیال میں لگ جاوے کہ کسی وقت حرام کا پیسہ ان کے گھر آیا ہو گا پھر اس طرح تو آخر کار دعوتوں کا کھانا ہی بند ہو جاوے گا۔خدا کا نام ستار بھی ہے ورنہ دنیا میں عام طور پر راست باز کم ہوتے ہیں مستور الحال بہت ہوتے ہیں یہ بھی قرآن میں لکھا ہے۔وَلَا تَجَسَّسُوا (الحجرات:13) یعنی تجنس مت کیا کرو ورنہ اس طرح تم مشقت میں پڑو گے۔اسلامی فنڈ کا قیام ( ملفوظات جلد سوم صفحه 168-167) انسان کو چاہئے کہ اپنے معاش کے طریق میں پہلے ہی کفایت شعاری مدنظر رکھے تاکہ سودی قرضہ اٹھانے کی نوبت نہ آئے جس سے سود اصل سے بڑھ جاتا ہے۔ابھی کل ایک شخص کا خط آیا تھا کہ ہزار روپیہ دے چکا ہوں ابھی پانچ چھ سو باقی ہے پھر مصیبت یہ ہے کہ عدالتیں بھی ڈگری دے دیتی ہیں۔مگر اس میں عدالتوں کا کیا گناہ۔جب اس کا اقرار موجود ہے تو گویا اس کے یہ معنے ہیں کہ سود دینے پر راضی ہے پس وہاں سے ڈگری جاری ہو جاتی ہے۔اس سے یہ بہتر تھا کہ مسلمان اتفاق کرتے اور کوئی فنڈ جمع کر کے تجارتی طور پر اسے فروغ دیتے تاکہ کسی بھائی کو سود پر قرضہ لینے کی حاجت نہ ہوتی بلکہ اس مجلس سے ہر صاحب ضرورت اپنی حاجت روائی کر لیتا اور میعاد مقررہ پر واپس ( ملفوظات جلد پنجم صفحه 435) دے دیتا۔