حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 557
557 مسئله سود الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبوا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطنُ مِنَ الْمَسِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرّبوا وَ اَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبوا فَمَنْ جَاءَهُ مَوِعْظَةٌ مِنْ رَّبِّهِ فَانْتَهى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَ أَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَ مَنْ عَادَ فَأُولئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمُ فِيهَا خَلِدُونَ۔يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبوا وَيُرْبِي الصَّدَقتِ وَ اللهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُا الزَّكَوةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبوا إِنْ كُنتُم مُؤْمِنِينَ۔فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا فَأَذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ إِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُ وُسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ۔(البقرة: 280-276) سود اجتہادی مسئلہ ہے ایک شخص نے ایک لمبا خط لکھا کہ سیونگ بنگ کا سود اور دیگر تجارتی کارخانوں کا سود جائز ہے یا نہیں کیونکہ اس کے ناجائز ہونے سے اسلام کے لوگوں کو تجارتی معاملات میں بڑا نقصان ہو رہا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے اور جب تک کہ اس کے سارے پہلوؤں پر غور نہ کی جائے اور ہر قسم کے ہرج اور فوائد جو اس سے حاصل ہوتے ہیں وہ ہمارے سامنے پیش نہ کیے جاویں۔ہم اس کے متعلق اپنی رائے دینے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ یہ جائز ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہزاروں طریق روپیہ کمانے کے پیدا کیے ہیں۔مسلمان کو چاہیئے کہ ان کو اختیار کرے اور اس سے پر ہیز رکھے ایمان صراط مستقیم سے وابستہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو اس طرح سے ٹال دینا گناہ ہے مثلاً اگر دنیا میں سور کی تجارت ہی سب سے زیادہ نفع مند ہو جاوے تو کیا مسلمان اس کی تجارت شروع کر دیں گے۔ہاں اگر ہم یہ دیکھیں کہ اس کو چھوڑنا اسلام کے لیے ہلاکت کا موجب ہوتا ہے تب ہم فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ (الانعام: 146) کے نیچے لا کر اس کو جائز کہہ دیں گے مگر یہ کوئی ایسا امر نہیں اور یہ ایک خانگی امر اور خود غرضی کا مسئلہ ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 211-210)