حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 556 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 556

556 قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کو طلاق بہت ناگوار ہے کیونکہ اس سے میاں بیوی دونوں کی خانہ بر بادی ہو جاتی ہے اس واسطے تین طلاق اور تین طہر کی مدت مقرر کی کہ اس عرصہ میں دونوں اپنا نیک و بد سمجھ کر اگر صلح چاہیں تو کر لیویں۔عورت کو خلع کی اجازت ہے ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 215) شریعت اسلام نے صرف مرد کے ہاتھ میں ہی یہ اختیار نہیں رکھا کہ جب کوئی خرابی دیکھے یا نا موافقت پاوے تو عورت کو طلاق دے دے بلکہ عورت کو بھی یہ اختیار دیا ہے کہ وہ بذریعہ حاکم وقت کے طلاق لے لے۔اور جب عورت بذریعہ حاکم کے طلاق لیتی ہے تو اسلامی اصطلاح میں اس کا نام ضلع ہے۔جب عورت مرد کو ظالم پاوے یا وہ اس کو ناحق مارتا ہو یا اور طرح سے نا قابل برداشت بدسلوکی کرتا ہو یا کسی اور وجہ سے نا موافقت ہو یا وہ مرد در اصل نامرد ہو یا تبدیل مذہب کرے یا ایسا ہی کوئی اور سبب پیدا ہو جائے جس کی وجہ سے عورت کو اس کے گھر میں آبادرہنا نا گوار ہو تو ان تمام حالتوں میں عورت یا اس کے کسی ولی کو چاہئیے کہ حاکم وقت کے پاس یہ شکایت کرے اور حاکم وقت پر یہ لازم ہوگا کہ اگر عورت کی شکایت واقعی درست سمجھے تو اس عورت کو اس مرد سے اپنے حکم سے علیحدہ کر دے اور نکاح کو توڑ دے لیکن اس حالت میں اس مرد کو بھی عدالت میں بلا نا ضروری ہوگا کہ کیوں نہ اس عورت کو اس سے علیحدہ کیا جائے۔(چشمہ معرفت۔رخ- جلد 23 صفحہ 289-288) مجبوریوں کے وقت عورتوں کے لیے بھی راہ کھلی ہے کہ اگر مرد بیکار ہو جاوے تو حاکم کے ذریعہ سے خلع کرالیں جو طلاق کا قائمقام ہے۔اگر عورت مرد کے تعدد ازواج پر ناراض ہے تو وہ بذریعہ حاکم ضلع کر سکتی ہے۔کشتی نوح۔ر۔خ۔جلد 19 صفحہ 81-80) ناموافقت میں صلح کے لئے حکم کا قیام وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَ حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنِهِمَاء إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا۔(النساء:36) اگر میاں بیوی کی مخالفت کا اندیشہ ہو تو ایک منصف خاوند کی طرف سے مقرر کرو اور ایک منصف بیوی کی طرف سے اگر منصف صلح کرانے کے لیے کوشش کریں گے تو خدا توفیق دید یگا۔(آریہ دھرم - ر- خ - جلد 10 صفحہ 51) وَ الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا۔۔۔۔البقرة : 235) اور جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور جو روئیں رہ جائیں تو وہ چار مہینے اور دس دن نکاح کرنے سے رکی رہیں۔( شہادت القرآن۔ر-خ- جلد 6 صفحہ 336)