حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 29
29 29 الہام حضرت اقدس مجھے ایک دفعہ یہ الہام ہوا کہ:۔الرحمن علم القرآن يا احمد فاضت الرحمة على شفتيك یعنی خدا نے تجھے اے احمد قرآن سکھلایا اور تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی۔اور اس الہام کی تفہیم مجھے اس طرح پر ہوئی کہ کرامت اور نشان کے طور پر قرآن اور زبان قرآن کی نسبت دو طرح کی نعمتیں مجھ کو عطا کی گئی ہیں۔(۱) ایک یہ کہ معارف عالیہ فرقان حمید بطور خارق عادت مجھ کو سکھلائے گئے جن میں دوسرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔(۲) دوسرے یہ کہ زبان قرآن یعنی عربی میں وہ بلاغت اور فصاحت مجھے دی گئی۔کہ اگر تمام علماء مخالفین باہم اتفاق کر کے بھی اس میں میرا مقابلہ کرنا چاہیں تو نا کام اور نا مراد ر ہیں گے۔اور وہ دیکھ لیں گے کہ جو حلاوت اور بلاغت اور فصاحت لسان عربی مع التزام حقائق و معارف و نکات میری کلام میں ہے وہ ان کو اور انکے دوستوں اور ان کے استادوں اور ان کے بزرگوں کو ہرگز حاصل نہیں۔تریاق القلوب - رخ جلد 15 صفحہ (230) اشعار حضرت اقدس عِلْمِي مِنَ الرَّحْمَنِ ذِي الأَلَاءِ بِاللَّهِ حُزْتُ الْفَضْلَ لَا بِدَهَاءِ میر اعلم خدائے رحمان کی طرف سے جو نعمتوں والا ہے میں نے خدا کے ذریعہ فضل الہی کو حاصل کیاہے نہ کہ قتل کے ذریعہ كَيْفَ الْوَصُولُ إِلَى مَدَارِج شُكْرِهِ تُثْنِي عَلَيْهِ وَلَيْسَ حَوْلُ شَـنَـاءِ ہم اس کے شکر کی منزلوں تک کیسے پہنچ سکتے ہیں کہ ہم اس کی شنا کرتے ہیں اور ثنا کی طاقت نہیں اللَّهُ مَوْلَنَا وَكَافِلُ أَمْرِنَا فِي هِذِهِ الدُّنْيَا وَبَعْدَ فَنَاءِ خدا ہمارا مولیٰ ہے اور ہمارے کام کا متکفل ہے اس دنیا میں بھی اور فنا کے بعد بھی لَوْلَاعِنَايَتُهُ بِزَمِنِ تَطَلُّبِيْ كَادَتْ تُعَفَّيْنِيْ سُيُولُ بُكَاءِ اگر میری جستجوئے پیہم کے دور میں اسکی عنایت نہ ہوتی تو قریب تھا کہ آہ وزاری کے سیلاب مجھے نابود کر دیتے أعْطِيتُ مِنْ الْفِ مَعَارَفَ لُبَّهَا أنْزَلْتُ مِنْ حِبَّ بِدَارِ ضِيَاءِ مجھے محبوب کی طرف سے معارف کا مغز عطاء کیا گیا ہے اور میں اپنے محبوب کی طرف سے روشنی کی جگہ میں اتارا گیا ہوں انجام آتھم۔رخ جلد 11 صفحہ 266)