حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 535 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 535

535 پیشگوئی اور نشان خدا کے ہاتھ میں ہے وَ قَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ ايْتُ مِنْ رَّبِّهِ قُلْ إِنَّمَا الْأَيتُ عِندَ الله۔۔۔۔۔الاية (العنكبوت: 51) قُلْ إِنَّمَا الأيْتُ عِندَ الله (الانعام: 110) یعنی ان کو کہہ دو کہ نشان اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں جس نشان کو چاہتا ہے اس نشان کو ظاہر کرتا ہے بندہ کا اس پر زور نہیں ہے کہ جبر کے ساتھ اس سے ایک نشان لیوے یہ جبر اور اقتدار تو آپ ہی کی کتابوں میں پایا جاتا ہے بقول آپ کے مسیح اقتداری معجزات دکھلاتا تھا اور اس نے شاگردوں کو بھی اقتدار بخشا اور آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ اب بھی حضرت مسیح زندہ ھی و قیوم قادر مطلق عالم الغیب دن رات آپ کے ساتھ ہے جو چاہو وہی دے سکتا ہے۔پس آپ حضرت مسیح سے درخواست کریں کہ ان تینوں بیماروں کو آپ کے ہاتھ رکھنے سے اچھا کر دیویں تا نشانی ایمان داری کی آپ میں باقی رہ جاوے ورنہ یہ تو مناسب نہیں کہ ایک طرف اہل حق کے ساتھ بحیثیت سچے عیسائی ہونے کے مباحثہ کریں اور جب بچے عیسائی کے نشان مانگے جائیں تب کہیں کہ ہم میں استطاعت نہیں۔حضرت اقدس کی پیشگوئی جنگ مقدس - ر- خ- جلد 6 صفحہ 155) خوب یا درکھنا چاہیئے کہ میری پیشگوئیوں میں کوئی بھی امرایسا نہیں ہے جس کی نظیر پہلے انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیوں میں نہیں ہے۔یہ جاہل اور بے تمیز لوگ چونکہ دین کے باریک علوم اور معارف سے بے بہرہ ہیں اس لیے قبل اس کے جو عادۃ اللہ سے واقف ہوں بخل کے جوش سے اعتراض کرنے کے لیے دوڑتے ہیں اور ہمیشہ بموجب آیت کریمہ يَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ (التوبة: 98) میری کسی گردش کے منتظر ہیں اور عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ (التوبة: 98) کے مضمون سے بے خبر یادرکھنا چاہیئے کہ زندگی کے درمیانی حصوں میں انبیاء علیہم السلام بھی بلاؤں سے محفوظ نہیں رہے مگر انجام بخیر ہوا۔اسی طرح اگر ہمیں بھی اس درمیانی مراحل میں کوئی غم پہنچے یا کوئی مصیبت پیش آوے تو اس کو خدا تعالیٰ کا آخری حکم سمجھنا غلطی ہے۔خدا تعالیٰ کا حتمی وعدہ ہے کہ وہ ہمارے سلسلہ میں برکت ڈالے گا اور اپنے اس بندہ کو بہت برکت دیگا یہاں تک کہ بادشاہ اس بندہ کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے وہ ہر یک ابتلا اور پیش آمدہ ابتلا کا بھی انجام بخیر کرے گا اور دشمنوں کے ہر ایک بہتان سے انجام کاربریت ظاہر کر دے گا۔(حقیقۃ المہدی۔رخ- جلد 14 صفحہ 443) معراج سُبُحْنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الاقصا الَّذِى بَرَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ ايْتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ۔(بنى اسرائيل :2) ترجمہ :۔پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو رات کے وقت میں سیر کرایا یعنی ضلالت اور گمراہی کے زمانہ میں جو رات سے مشابہ ہے مقامات معرفت اور یقین تک لڑنی طور سے پہنچایا۔( براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 600 حاشیه در حاشیہ نمبر 3)