حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 534 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 534

534 ظہور پیشگوئی کا وقت نہیں بتایا جاتا وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ۔(النمل: 72) خدا چاہتا ہے کہ نیکوں کو بچائے اور بدوں کو ہلاک کرے۔اگر وقت اور تاریخ بتلائی جائے تو ہر ایک شریر سے شریر اپنے واسطے بچاؤ کا سامان کر سکتا ہے۔اگر وقت کے نہ بتلانے سے پیشگوئی قابل اعتراض ہو جاتی ہے تو پھر تو قرآن شریف کی پیشگوئیوں کا بھی یہی حال ہے۔وہاں بھی اس قسم کے لوگوں نے اعتراض کیا تھا کہ متى هذا الوَعْدُ (يونس : 49) یہ وعدہ کب پورا ہو گا ہمیں وقت اور تاریخ بتلاؤ مگر بات یہ ہے کہ وعید کی پیشگوئیوں میں تعین نہیں ہوتا ورنہ کا فر کبھی بھاگ کر بچ جائے۔قُلْ اِنْ اَدْرِى أَقَرِيبٌ مَّا تُوعَدُونَ اَمْ يَجْعَلُ لَهُ رَبِّي أَمَدًا۔(الجن: 26) ( ملفوظات جلد چہارم صفحه 293) ان کو کہہ دے کہ میں نہیں جانتا کہ عذاب قریب ہے یا دور ہے۔اب اے سننے والو یا درکھو کہ یہ بات سچ ہے اور بالکل سچ ہے اور اس کے ماننے کے بغیر چارہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں بھی ظاہر پر پوری ہوتی ہیں اور کبھی استعارہ کے رنگ میں۔پس کسی نبی یا رسول کو یہ حوصلہ نہیں کہ ہر جگہ اور ہر پیشگوئی میں یہ دعویٰ کر دے کہ اس طور پر یہ پیشگوئی پوری ہوگی ہاں اس امر کا دعویٰ کرنا نبی کا حق ہے کہ وہ پیشگوئی جس کو وہ بیان کرتا ہے خارق عادت ہے یا انسانی علم سے وراء الورا ہے۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 253)۔۔۔۔۔پیشگوئی کا صدق اس کے ظاہر ہونے پر قائم ہوتا ہے بہت سی باتیں پیشگوئیوں کے طور پر نبیوں کی معرفت لوگوں کو پہنچتی ہیں اور جب تک وہ اپنے وقت پر ظاہر نہ ہوں ان کی بابت کوئی یقینی رائے قائم نہیں کی جاسکتی لیکن جب ان کا ظہور ہوتا ہے اور حقیقت کھلتی ہے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس پیشگوئی کا یہ مفہوم اور منشا تھا اور جو شخص اس کا مصداق ہو یا جس کے حق میں ہو اس کو اس کو علم دیا جاتا ہے۔۔۔حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کے فراق میں چالیس سال تک روتے رہے آخر جا کر آپ کو خبر ملی تو کہا اِنِّی لَا جِدُ رِيحَ يُوْسُفَ (يوسف : 195) ورنہ اس سے پہلے آپ کا یہ حال ہوا کہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے وَ ابْيَضَّتْ عَيْنَهُ (يوسف : 85) تک نوبت پہنچی۔اسی کے متعلق کیا اچھا کہا ہے پیر خرد مند کے پرسیدزاں گم کرده فرزند کہ اے روشن گہر ز مصرش بوئے پیراہن شمیدی چرا چاه کنعانش نه دیدی در ( ملفوظات جلد دوم صفحه 375) (ترجمہ: کسی نے گمشدہ بیٹے کے باپ سے پوچھا کہ اے خوش قسمت اور دانشمند بزرگ تم نے مصر سے اپنے بیٹے کی قمیض کی بوسونگھ لی مگر کنعان کے کوئیں کے اندر کیوں نہ دیکھا۔)