حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 532 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 532

532 ( ترجمه از مرتب اللہ عزوجل کے قول سے ثابت ہوتا ہے کہ شک وشبہ کو دور کر دینے والی قطعی علامات اور واضح نشانیاں جو بزبان حال قرب قیامت کا پتہ دیتی ہوں کبھی بھی ظاہر نہیں ہوتیں۔ہاں صرف ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں جو غور و فکر اور تاویل کی محتاج ہوتی ہیں اور استعارات کے پردوں میں ہوتی ہیں۔ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آسمان کے دروازے سے ظاہری طور پر کھل جائیں اور ان میں سے عیسی علیہ السلام لوگوں کی نظروں کے سامنے ہاتھ میں نیزہ لئے ہوئے نازل ہوں اور فرشتے ان کے ہمراہ ہوں۔پیشگوئی۔تعریف اور اقسام پیشگوئی اور ارادہ الہی میں صرف یہ فرق ہوتا ہے کہ پیشگوئی کی اطلاع نبی کو دی جاتی ہے اور ارادہ الہی پر کسی کو اطلاع نہیں ہوتی اور وہ مخفی رہتا ہے۔اگر وہی ارادہ الہی نبی کی معرفت ظاہر کر دیا جاتا تو وہ پیشگوئی ہوتی اگر پیشگوئی نہیں مل سکتی تو پھر ارادہ الہی بھی صدقہ و خیرات سے نہیں مل سکتا لیکن یہ بالکل غلط بات ہے۔چونکہ وعید کی پیشگوئیاں ٹل جاتی ہیں اس لئے فرمایا اِن يُكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِى يَعِدُكُمُ۔(المومن:29) اب اللہ تعالیٰ خود گواہی دیتا ہے کہ بعض پیشگوئیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی ٹل گئیں۔حضرت یونس کا قصہ نہایت دردناک اور عبرت بخش ہے اور وہ کتابوں میں لکھا ہوا ہے اسے غور سے پڑھو۔یہاں تک کہ وہ دریا میں گرائے گئے اور مچھلی کے پیٹ میں گئے تب تو بہ منظور ہوئی۔یہ سزا اور عتاب حضرت یونس پر کیوں ہوا؟ اس لئے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو قادر نہ سمجھا کہ وہ وعید کو ٹال دیتا ہے پھر تم لوگ کیوں میرے متعلق جلدی کرتے ہو؟ اور میری تکذیب کیلئے ساری نبوتوں کو جھٹلاتے ہو۔لیکچرلدھیانہ۔رخ_جلد 20 صفحہ 279-277) یہ نکتہ بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ وعید کی پیشگوئیاں بعض پوری کر دے گا کل نہیں کہا۔اس میں حکمت کیا ہے؟ حکمت یہی ہے کہ وعید کی پیشگوئیاں مشروط ہوتی ہیں۔وہ تو بہ استغفار اور رجوع الی الحق سے مل جایا کرتی ہیں۔پیشگوئی دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک وعدہ کی جیسے فرمایا وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمُ (النور: 56) اہل سنت مانتے ہیں کہ اس قسم کی پیشگوئیوں میں مختلف نہیں ہوتا کیونکہ خدا تعالیٰ کریم ہے لیکن وعید کی پیشگوئیوں میں وہ ڈرا کر بخش بھی دیتا ہے اس لئے کہ وہ رحیم ہے۔بڑا نادان اور اسلام سے دور پڑا ہوا ہے وہ شخص جو کہتا ہے وعید کی سب پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں۔وہ قرآن کریم کو چھوڑتا ہے اس لئے کہ قرآن کریم تو کہتا ہے يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ۔(المومن: 29) (لیکچرلدھیانہ۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 277-276)