حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 521 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 521

521 ہے غضب کہتے ہیں اب وحی خدا مفقود ہے اب قیامت تک ہے اس امت کا قصوں پر مدار عقیده برخلاف گفته دادار ہے پر اتارے کون برسوں کا گلے سے اپنے ہار وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار بولتا ( در مشین اردو صفحہ 137 ) ( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 137 ) الہام جاری ہے۔قانون قدرت کے اعتبار سے وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجُعِ۔(الطارق:12) وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجُعِ اس جگہ آسمان سے مراد وہ کرہ زمہریر ہے جس سے پانی برستا ہے اور اس آیت میں اس کرہ زمہریر کی قسم کھائی گئی ہے جو مینہ برساتا ہے اور رجع کے معنے مینہ ہے اور خلاصہ معنی آیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں وحی کا ثبوت دینے کے لئے آسمان کو گواہ لاتا ہوں جس سے پانی برستا ہے۔یعنی تمہاری روحانی حالت بھی ایک پانی کی محتاج ہے اور وہ آسمان سے ہی آتا ہے جیسا کہ تمہارا جسمانی پانی آسمان سے آتا ہے۔اگر وہ پانی نہ ہو تو تمہاری عقلوں کے پانی بھی خشک ہو جائیں۔عقل بھی اسی آسمانی پانی یعنی وحی الہی سے تازگی اور روشنی پاتی ہے۔غرض جس خدمت میں آسمان لگا ہوا ہے یعنی پانی برسانے کی خدمت۔یہ کام آسمان کا خدا تعالیٰ کی پہلی صفت کا ایک ظل ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ ابتداء ہر ایک چیز کا پانی سے ہے۔انسان بھی پانی سے ہی پیدا ہوتا ہے اور دید کی رو سے پانی کا دیوتا اکاش ہے جس کو وید کی اصطلاح میں اندر کہتے ہیں مگر یہ سمجھنا غلطی ہے کہ یہ اندر کچھ چیز ہے بلکہ وہی پوشیدہ اور نہاں در نہاں طاقت عظمیٰ جس کا نام خدا ہے اس میں کام کر رہی ہے۔(نسیم دعوت - ر-خ- جلد 19 صفحہ 413-412) وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ۔(النحل: 69) یہ امر ضروری ہے کہ وحی شریعت اور وحی غیر شریعت میں فرق کیا جاوے بلکہ اس امتیاز میں تو جانوروں کو جو وحی ہوتی ہے اس کو بھی مدنظر رکھا جاوے۔بھلا آپ بتلا دیں کہ قرآن شریف میں جو یہ لکھا ہے وَ أَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحل تو اب آپ کے نزدیک شہد کی مکھی کی وحی ختم ہو چکی ہے یا جاری ہے؟ جب مکھی کی وحی اب تک منقطع نہیں ہوئی تو انسانوں پر جو وحی ہوتی ہے وہ کیسے منقطع ہوسکتی ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 417)