حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 492
492 پس جب کہ یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہوا کہ ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرادین اسلام پھیلانے کے لئے کوئی جنگ نہیں کیا بلکہ کافروں کے بہت سے حملوں پر ایک زمانہ دراز تک صبر کر کے آخر نہایت مجبوری سے محض دفاعی طور پر جنگ شروع کیا گیا تھا تو پھر یہ خیالات کہ کوئی خونی مہدی یا مسیح آئے گا اور جبراً دین پھیلانے کے لئے لڑائیاں کرے گا۔ان خیالات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ مہدی اور مسیح آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے طریق کی مخالفت کرے گا اور اپنی روحانی کمزوری کے سبب تلوار کا محتاج ہو گا۔پس ان خیالات سے بڑھ کر اور کونسا خیال لغو ہوسکتا ہے۔جس امر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کرنا نہیں چاہا اور صدہا مصیبتیں دیکھیں اور پھر صبر کیا وہ امر مہدی اور مسیح کے لئے کیونکر جائز ہو جائے گا۔پیغام صلح۔ر۔خ۔جلد 23 صفحہ 397-396) مذہبی امور میں آزادی ہونی چاہیئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ۔کہ دین میں کسی قسم کی زبردستی نہیں ہے۔اس قسم کا فقرہ انجیل میں کہیں بھی نہیں۔لڑائیوں کی اصل جڑھ کیا تھی۔اس کے سمجھنے میں ان لوگوں سے غلطی ہوئی ہے۔اگر لڑائی کا ہی حکم تھا تو تیرہ برس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تو پھر ضائع ہی گئے۔کہ آپ نے آتے ہی تلوار نہ اٹھائی صرف لڑنے والوں کے ساتھ لڑائیوں کا حکم ہے۔اسلام کا یہ اصول کبھی نہیں ہوا۔کہ خود ابتدائے جنگ کریں۔لڑائی کا کیا سبب تھا اسے خود خدا نے بتلایا ہے کہ ظلِمُوا۔خدا نے جب دیکھا کہ یہ لوگ مظلوم ہیں تو اب اجازت دیتا ہے کہ تم بھی لڑو۔یہ نہیں حکم دیا کہ اب وقت تلوار کا ہے تم زبردستی تلوار کے ذریعہ لوگوں کو مسلمان کرو۔بلکہ یہ کہا ہے کہ تم مظلوم ہو۔اب مقابلہ کرو مظلوم کو تو ہر ایک قانون اجازت دیتا ہے کہ حفظ جان کے واسطے مقابلہ کرے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 653-652) اور یہ بھی فرق یادر ہے کہ اسلام نے صرف ان لوگوں کے مقابل پر تلوار اُٹھا نا حکم فرمایا ہے کہ جو اول آپ تلوار اُٹھا ئیں۔اور انہیں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے جو اول آپ قتل کریں۔یہ حکم ہرگز نہیں دیا کہ تم ایک کافر بادشاہ کے تحت میں ہو کر اور اس کے عدل اور انصاف سے فائدہ اٹھا کر پھر اسی پر باغیانہ حملہ کرو۔قرآن کے رو سے یہ بد معاشوں کا طریق ہے نہ نیکوں کا لیکن توریت نے یہ فرق کسی جگہ نہیں کھول کر بیان فرمایا۔اس سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف اپنے جلالی اور جمالی احکام میں اس خط مستقیم عدل اور انصاف اور رحم اور احسان پر چلتا ہے۔جس کی نظیر دنیا میں کسی کتاب میں موجود نہیں۔انجام آتھم۔ر۔خ۔جلد 11 صفحہ 37) اسلام میں بجز دفاعی طور کی جنگ یا ان جنگوں کے سوا جو بغرض سزائے ظالم یا آزادی قائم کرنے کی نیت سے ہوں اور کسی صورت میں دین کے لئے تلوار اُٹھانے کی اجازت نہیں اور دفاعی طور کی جنگ سے مراد وہ لڑائیاں ہیں جن کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جبکہ مخالفوں کے بلوہ سے اندیشہ جان ہو۔مسیح ہندوستان میں۔۔۔خ۔جلد 15 صفحہ 4)