حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 491 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 491

491 جہاد د فاع کے لئے تھا اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَ هَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُمْ بَدَءُ وُكُم اَوَّلَ مَرَّةٍ (التوبة : 13) اس خدا نے جو اسلام کا بانی ہے یہ نہیں چاہا کہ اسلام دشمنوں کے حملوں سے فنا ہو جائے بلکہ اس نے دفاعی جنگ کی اجازت دی ہے اور حفاظت خود اختیاری کے طور پر مقابلہ کرنے کا اذن دیدیا ہے جیسا کہ وہ قرآن شریف میں فرماتا ہے اَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَ هَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُمْ بَدَءُ وُكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ (التوبة : 13) وَإِنْ جَنَحُوا لِلسّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا (الانفال:62) کیا تم ایسی قوم سے نہیں لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں تو ڑ ڈالیں اور چاہا کہ رسول خدا کو جلا وطن کر دیں اور انہوں نے ہی پہلے تمہیں قتل کرنا شروع کیا۔(چشمہ معرفت - ر- خ - جلد 23 صفحہ 394) أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا۔۔۔إِلَّا اَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ (الحج : 41-40) لڑائیوں کے سلسلہ کو دیکھنا از بس ضروری ہے اور جب تک آپ سلسلہ کو نہ دیکھو گے اپنے تئیں عمد ایا ہوا بڑی غلطی میں ڈالو گے۔سلسلہ تو یہ ہے کہ اول کفار نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کا ارادہ کر کے آخر اپنے حملوں کی وجہ سے ان کو مکہ سے نکال دیا اور پھر تعاقب کیا اور جب تکلیف حد سے بڑھی تو پہلا حکم جولڑائی کے لئے نازل ہو اوہ یہ تھا۔أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ (الحج : 41-40) یعنی ان لوگوں کو مقابلہ کی اجازت دی گئی کہ ان پر ظلم ہوا اور خدا مظلوم کی حمایت کرنے پر قادر ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے وطنوں سے ناحق نکالے گئے اور ان کا گناہ بجز اس کیے اور کوئی نہ تھا جو ہمارا رب اللہ ہے۔( جنگ مقدس۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 255-254) اس بات کو مت بھولو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے حد سے گذرے ہوئے ظلم وستم پر تلوار اُٹھائی اور وہ حفاظت خود اختیاری تھی جو ہر مہذب گورنمنٹ کے قانون میں بھی حفاظت خود اختیاری کو جائز رکھا ہے۔اگر ایک چور گھر میں گھس آوے اور وہ حملہ کر کے مارڈالنا چاہے اس وقت اس چور کو بچاؤ کے لئے مارڈالنا جرم نہیں ہے۔پس جب حالت یہاں تک پہنچی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جان نثار خدام شہید کر دئے گئے اور مسلمان ضعیف عورتوں تک کو نہایت سنگدلی اور بے حیائی کے ساتھ شہید کیا گیا تو کیا حق نہ تھا کہ ان کو سزادی جاتی۔اس وقت اگر اللہ تعالی کا یہ منشاء ہوتا کہ اسلام کا نام ونشان نہ رہے تو البتہ یہ ہوسکتا تھا کہ تلوار کا نام نہ آتا مگر وہ چاہتا تھا کہ اسلام دنیا میں پھیلے اور دنیا کی نجات کا ذریعہ ہو اس لئے اس وقت محض مدافعت کے لئے تلوار اٹھائی گئی۔میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ اسلام کا اس وقت تلوار اٹھانا کسی قانون مذہب اور اخلاق کی رُو سے قابل اعتراض نہیں ٹھہرتا۔وہ لوگ جو ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے کی تعلیم دیتے ہیں وہ بھی صبر نہیں کر سکتے اور جن کے ہاں کیڑے کا مارنا بھی گناہ سمجھا جاتا ہے وہ بھی نہیں کر سکتے پھر اسلام پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ (لیکچر لدھیانہ۔۔۔خ۔جلد 20 صفحہ 273)