حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 490 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 490

490 لیا۔آخر کار جب ان کفار کے مظالم کی کوئی حد نہ رہی اور مسلمانوں کو ان کے وطن سے باہر نکال کر بھی وہ سیر نہ ہوئے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ارشاد ہوا۔اُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِير (الحج: 40) خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو تلوار اُٹھانے کی اجازت دی اور اس اجازت میں یہ ثابت کر دیا کہ واقع میں یہ لوگ ظالم تھے۔اور شرارت ان کی حد سے بڑھ چکی تھی اور مسلمانوں کا صبر بھی اپنے انتہائی نقطہ تک پہنچ چکا تھا۔اب خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے تلوار سے مقابلہ کیا وہ تلوار ہی سے ہلاک کئے جاویں اور گو یہ چند اور ضعیف ہیں مگر میں دکھا دوں گا کہ میں بوجہ اس کے کہ وہ مظلوم ہیں ان کی نصرت کرونگا اور تم کو ان کے ہاتھ سے ہلاک کراؤں گا۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 587) اسلامی جنگوں کی تین وجوہات تھیں کیا اس مذہب کو ہم جبر کا مذہب کہہ سکتے ہیں جس کی کتاب قرآن میں صاف طور پر یہ ہدایت ہے کہ لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة : 257) یعنی دین میں داخل کرنے کے لئے جبر جائز نہیں۔کیا ہم اس بزرگ نبی کو جبر کا الزام دے سکتے ہیں جس نے مکہ معظمہ کے تیرہ برس میں اپنے تمام دوستوں کو دن رات یہی نصیحت دی کہ شرکا مقابلہ مت کرو اور صبر کرتے رہو۔ہاں جب دشمنوں کی بدی حد سے گذرگئی اور دین اسلام کے مٹانے کے لئے تمام قوموں نے کوشش کی تو اس وقت غیرت الہی نے تقاضا کیا کہ جو لوگ تلوار اُٹھاتے ہیں وہ تلوار ہی سے قتل کئے جائیں ورنہ قرآن شریف نے ہرگز جبر کی تعلیم نہیں دی اگر جبر کی تعلیم ہوتی تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جبر کی تعلیم کی وجہ سے اس لائق نہ ہوتے کہ امتحانوں کے موقع پر بچے ایمانداروں کی طرح صدق دکھلا سکتے لیکن ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی وفاداری ایک ایسا امر ہے کہ اس کے اظہار کی ہمیں ضرورت نہیں۔یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ ان کے صدق اور وفاداری کے نمونے اس درجہ پر ظہور میں آئے کہ دوسری قوموں میں ان کی نظیر ملنا مشکل ہے۔اس وفادار قوم نے تلواروں کے نیچے بھی اپنی وفاداری اور صدق کو نہیں چھوڑا بلکہ اپنے بزرگ اور پاک نبی کی رفاقت میں وہ صدق دکھلایا کہ کبھی انسان میں وہ صدق نہیں آ سکتا جب تک ایمان سے اس کا دل اور سینہ منور نہ ہو۔غرض اسلام میں جبر کو دخل نہیں۔اسلام کی لڑائیاں تین قسم سے باہر نہیں (۱) دفاعی طور پر یعنی بہ طریق حفاظت خود مختیاری (۲) بطور سزا یعنی خون کے عوض میں خون (۳) بطور آزادی قائم کرنے کے یعنی بغرض مزاحموں کی قوت توڑنے کے جو مسلمان ہونے پر قتل کرتے تھے۔پس جس حالت میں اسلام میں یہ ہدایت ہی نہیں کہ کسی شخص کو جبر اور قتل کی دھمکی سے دین میں داخل کیا جائے تو پھر کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کی انتظار کرنا سرا سر غو اور بیہودہ ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآنی تعلیم کے برخلاف کوئی ایسا انسان بھی دنیا میں آوے جو تلوار کے ساتھ لوگوں کو مسلمان کرے۔مسیح ہندوستان - ر- خ - جلد 15 صفحہ 12-11)