حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 21 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 21

21 24 آمدم تا نگار باز آید میں اس لئے آیا ہوں تاکہ محبوب لوٹ آئے ، پرورد ہروم بیدلاں قرار باز آید اور بددل لوگوں کو پھر آرام نصیب ہو کرو و حیش بمن ظہور اتم ایک غیبی ہاتھ ہر دم میری پرورش کرتا ہے اور اس کی وحی نے کامل طور سے مجھ پر ظہور کیا ہے نور الهام ہمیچو باد صبا نزدم آرد زغیب خوشبو ہا الہام الہی کا نور باد صبا کی طرح غیب سے میرے پاس خوشبوئیں لا رہا زنده شد ہر نبی با مدنم ہر رسولے نہاں به ہر نبی میرے آنے سے زندہ ہو گیا ہر رسول میرے پیرائن میں پوشیدہ ہے نزول مسیح رخ جلد 18 صفحہ 478) حضرت اقدسن کی وحی کا ذکر قرآن کریم میں فرمایا کہ ”آج میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ قرآن شریف کی وحی اور اس سے پہلی وحی پر ایمان لانے کا ذکر تو قرآن شریف میں موجود ہے۔ہماری وحی پر ایمان لانے کا ذکر کیوں نہیں۔اس امر پر توجہ کر رہا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور القاء کے پیکا یک میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ آیہ کریمہ و الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أنزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ (البقره: 5) میں تینوں وجیوں کا ذکر ہے۔مَا أُنزِلَ اِلَیک ہے قرآن شریف کی وحی اور مَا انْزِلَ مِنْ قَبْلِک سے انبیاء سابقین کی وحی اور آخرۃ سے مراد مسیح موعود کی وحی ہے۔آخرة کے معنی ہیں پیچھے آنے والی۔وہ پیچھے آنے والی چیز کیا ہے۔سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ یہاں پیچھے آنیوالی چیز سے مراد وہ وہی ہے جو قرآن کریم کے بعد نازل ہوگی یہ کیونکہ اس سے پہلے وحیوں کا ذکر ہے۔ایک وہ جو آنحضرت پر نازل ہوئی۔دوسری وہ جو آنحضرت ﷺ سے قبل نازل ہوئی اور تیسری وہ جو آپ کے بعد آنے والی تھی۔( تفسیر حضرت اقدس سورة البقرة جلد 2 صفحہ 63) ریویو آف ریلیجند جلد 14 نمبر 4 بابت ماہ مارچ و اپریل 1915 ، صفحہ 164 حاشیہ ) حضرت اقدس کا اپنی وحی کی صداقت پر یقین کامل آنچه داد است آنچه بیچو انبیاء وارث ہر نبی را جام داد آن جام را مرا بتمام جو جام اس نے ہر نبی کو عطا کیا تھا وہی جام اس نے کامل طور سے مجھے بھی دیا ہے بشنوم از وی خدا بخدا ماک دانمش جو کچھ خدا کی وحی سے میں سنتا ہوں خدا کی قسم میں اسے غلطی سے پاک سمجھتا ہوں زخطا ایمانم قرآن منزه اش دانم از خطابا ہمیں است میں اسے قرآن کی طرح غلطیوں سے پاک جانتا ہوں اور یہی میرا ایمان ہے من بعرفاں یمترم ز کے مصطفیٰ بوده اند ہے ہوں۔اگر چہ انبیاء بہت ہوتے ہیں مگر میں معرفت الہی میں کسی سے کم نہیں ہوں رنگیں برنگ یار حسیں شدم یقیں شده میں یقینا مصطفیٰ کا وارث ہوں اور اس حسین محبوب کے رنگ میں رنگین ہوں ہوں ( نزول ایح۔رخ جلد 18 صفحہ 477)