حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 460 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 460

460 روحانی طور پر جو لوگ آئیں گے وہ آپ ہی کی اولاد سمجھے جائیں گے اور وہ آپ کے علوم و برکات کے وارث ہوں گے اور اس سے حصہ پائیں گے۔اس آیت کو مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنُ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ (الاحزاب: 41) کے ساتھ ملا کر پڑھو تو حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد بھی نہیں تھی تو پھر معاذ اللہ آپ ابتر ٹھہرتے ہیں جو آپ کے اعداء کے لئے ہے اور انا اَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ گوروحانی اولا د کثیر دی گئی ہے۔پس اگر ہم یہ اعتقاد نہ رکھیں گے کہ کثرت کے ساتھ آپ کی روحانی اولاد ہوئی ہے تو اس پیشکوئی کے بھی منکر ٹھہریں گے۔اس لئے ہر حالت میں ایک بچے مسلمان کو یہ ماننا پڑے گا اور ماننا چاہیئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات قدسی ابدالا باد کے لئے ویسی ہی ہیں جیسی تیرہ سو برس پہلے تھیں۔چنانچہ ان تاثیرات کے ثبوت کے لئے ہی خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اب وہی آیات و برکات ظاہر ہورہے ہیں جو اس وقت ہورہے تھے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 39-38) اگر یہ مانا جائے جیسا کہ ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ آپ کا نہ کوئی جسمانی بیٹا ہے نہ روحانی۔تو پھر اس طرح پر معاذ اللہ یہ لوگ آپ کو ابتر ٹھہراتے ہیں مگر ایسا نہیں۔آپ کی شان تو یہ ہے کہ إِنَّا أَعْطَيُنكَ الْكَوْثَرَ۔فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ، إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْابْتَرُ۔نبوت اور رسالت جاری ہے ( ملفوظات جلد دوم صفحه 317) تمام نبوتیں اور تمام کتابیں جو پہلے گزر چکیں ان کی الگ طور پر پیروی کی حاجت نہیں رہی کیونکہ نبوت محمد یہ ان سب پر مشتمل اور حاوی ہے اور بجز اس کے سب راہیں بند ہیں۔تمام سچائیاں جو خدا تک پہنچاتی ہیں اسی کے اندر ہیں۔نہ اس کے بعد کوئی نئی سچائی آئے گی اور نہ اس سے پہلے کوئی ایسی سچائی تھی جو اس میں موجود نہیں اس لئے اس نبوت پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے اور ہونا چاہیئے کیونکہ جس چیز کے لئے ایک آغاز ہے اس کے لئے ایک انجام بھی ہے لیکن یہ نبوت محمدیہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اس میں فیض ہے۔اس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے مکالمہ مخاطبہ کا اس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا مگر اس کا کامل پیر وصرف نبی نہیں کہلا سکتا کیونکہ نبوت کا ملہ تامہ محمدیہ کی اس میں بہتک ہے ہاں امتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اس پر صادق آسکتے ہیں کیونکہ اس میں نبوت تامہ کاملہ محمدیہ کی بہتک نہیں بلکہ اس نبوت کی چمک اس فیضان سے زیادہ تر ظاہر ہوتی ہے اور جبکہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا