حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 450 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 450

450 حضرت اقدس کا مذہب مجھ کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی اشاعت کے لئے مامور کیا ہے تا میں جو ٹھیک ٹھیک منشاء قرآن کریم کا ہے لوگوں پر ظاہر کروں۔اور اگر اس خدمتگذاری میں علماء وقت کا میرے پر اعتراض ہو اور وہ مجھکو فرقہ ضالہ نیچریہ کی طرف منسوب کریں تو میں ان پر کچھ افسوس نہیں کرتا۔بلکہ خدا تعالیٰ سے چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ وہ بصیرت انہیں عطا فرمادے جو مجھے عطا فرمائی ہے۔نیچریوں کا اول دشمن میں ہی ہوں اور ضرور تھا کہ علماء میری مخالفت کرتے کیونکہ بعض احادیث کا یہ منشا پایا جاتا ہے کہ مسیح موعود د جب آئیگا تو علما اسکی مخالفت کرینگے اسی کی طرف مولوی صدیق حسن صاحب مرحوم نے آثار القیامہ میں اشارہ کیا ہے اور حضرت مجدد صاحب سرہندی نے بھی اپنی کتاب کے صفحہ (۱۰۷) میں لکھا ہے کہ مسیح موعود جب آئیگا تو علماء وقت اسکو اہل الرائے کہینگے یعنی یہ خیال کرینگے کہ یہ حدیثوں کو چھوڑتا ہے اور صرف قرآن کا پابند ہے اور اسکی مخالفت پر آمادہ ہو جا ئینگے وَالسَّلَامُ عَلَىٰ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى۔غلام احمد قادیانی 21 جولائی 1891 ( الحق مباحثہ لدھیانہ۔۔خ۔جلد 4 صفحہ 30) جماعت کو نصیحت ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہیئے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن اور سنت نہ ہو تو خواہ کیسے ہی ادنی درجہ کی حدیث ہوا سپر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اسکوترجیح دیں۔اور اگر حدیث میں کوئی مسئلہ نہ ملے اور نہ سنت میں اور نہ قرآن میں مل سکے تو اس صورت میں فقہ حفی پر عمل کر لیں کیونکہ اس فرقہ کی کثرت خدا کے ارادہ پر دلالت کرتی ہے اور اگر بعض موجودہ تغیرات کی وجہ سے فقہ حنفی کوئی سچے فتوئی نہ دے سکے تو اس صورت میں علماء اس سلسلہ کے اپنے خدا دادا اجتہاد سے کام لیں لیکن ہوشیار رہیں کہ مولوی عبداللہ چکڑالوی کی طرح بے وجہ احادیث سے انکار نہ کریں ہاں جہاں قرآن اور سنت سے کسی حدیث کو معارض پاویں تو اس حدیث سے انکار نہ کریں ہاں جہاں قرآن اور سنت سے کسی حدیث کو معارض پاویں تو اس حدیث کو چھوڑ دیں۔یادرکھیں کہ ہماری جماعت بہ نسبت عبداللہ کے اہلحدیث سے اقرب ہے اور عبد اللہ چکڑالوی کے بیہودہ خیالات سے ہمیں کچھ بھی مناسبت نہیں۔ہر ایک جو ہماری جماعت میں ہے اسے یہی چاہیئے کہ وہ عبداللہ چکڑالوی کے عقیدوں سے جو حدیثوں کی نسبت وہ رکھتا ہے بدل منتظر اور بیزار ہو۔اور ایسے لوگوں کی صحبت سے حتی الوسع نفرت رکھیں کہ یہ دوسرے مخالفوں کی نسبت زیادہ بر بادشدہ فرقہ ہے۔اور چاہیئے کہ نہ وہ مولوی محمد حسین کے گروہ کی طرح حدیث کے بارہ میں افراط کی طرف جھکیں اور نہ عبداللہ کی طرح تفریط کی طرف مائل ہوں بلکہ اس بارہ میں وسط کا طریق اپنا مذ ہب سمجھ لیں۔یعنی نہ تو ایسے طور سے بکلی حدیثوں کو اپنا قبلہ و کعبہ قرار دیں جس سے قرآن متروک اور مہجور کی طرح ہو جائے۔اور نہ ایسے طور سے ان حدیثوں کو معطل اور لغو قرار دیدیں جن سے احادیث نبویہ بلکلی ضائع ہو جائیں۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی-ر-خ- جلد 19 صفحہ 213-212)