حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 440 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 440

440 حسب آیت کریمہ فَبِي حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُون (المرسلات : 51) اور بحسب آیت کریمہ فَبِأَيِّ حَدِيث ؟ بَعْدَ اللَّهِ وَ آيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ (الجاثیہ : 7 ) ہر ایک حدیث جو صریح آیت کے معارض پڑے رد کرنے کے لائق ہے۔اور آخری نصیحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیتھی کہ تم نے تمسک بکتاب اللہ کرنا ہے۔(ازالہ اوہام۔ر۔خ۔جلد 3 صفحہ 610) اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِةٍ أَوْلِيَاءَ طَ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ۔(الاعراف:4) اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمُ کیسے فیصلہ کرنے والی آیت ہے۔جس سے صریح اور صاف طور پر صاف ثابت ہوتا ہے کہ اول توجہ مومن کی قرآن کریم کی طرف ہونی چاہئے پھر اگر اس توجہ کے بعد کسی حدیث یا قول من دونہ میں داخل دیکھے تو اس سے منہ پھیر لیوے۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔ر۔خ۔جلد 4 صفحہ 42-41) فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ و آيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ (الجاثية : 7) یعنی خدا اور اس کی آیتوں کے بعد کس حدیث پر ایمان لائیں گے۔اس جگہ حدیث کے لفظ کی تنکیر جو فائدہ عموم کا دیتی ہے صاف بتلا رہی ہے کہ جو حدیث قرآن کے معارض اور مخالف پڑے اور کوئی راہ تطبیق کی پیدا نہ ہو۔اس کو رد کر دو۔اور اس حدیث میں ایک پیشگوئی بھی ہے جو بطور اشارۃ النص اس آیت سے مترشح ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ آیتہ ممدوحہ میں اس بات کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ ایک ایسا زمانہ بھی اس امت پر آنے والا ہے کہ جب بعض افراد اس امت کے قرآن شریف کو چھوڑ کر ایسی حدیثوں پر بھی عمل کریں گے جن کے بیان کردہ بیان قرآن شریف کے بیانات سے مخالف اور معارض ہو نگے۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکرالوی-رخ- جلد 19 صفحہ 207) خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں صراط مستقیم پر کھڑا رکھا ہے وہابیوں نے افراط کی اور قرآن پر حدیث کو قاضی ٹھہرایا اور قرآن کو اس کے آگے مستغیث کی طرح کھڑا کر دیا اور چکڑالوی نے تفریط کی کہ بالکل ہی حدیث کا انکار کر دیا۔اس سے فتنے کا اندیشہ ہے اس کی اصلاح ضروری ہے ہم کو خدا تعالیٰ نے حکم ٹھہرایا ہے اس لئے ہم ایک اشتہار کے ذریعہ اس غلطی کو ظاہر کریں گے اور مضمون پیچھے لکھیں گے۔اول خویش بعد درویش جس راہ پر خدا تعالیٰ نے ہم کو چلایا ہے اس پر اگر غور کیا جائے تو ایک لذت آتی ہے قرآن شریف نے کیا ٹھیک فیصلہ فرمایا فَبِاَتِي حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَايَتِهِ يُؤْمِنُونَ (الجاثیہ: 7) یہ ایک قسم کی پیشگوئی ہے جو ان وہابیوں کے متعلق ہے اور سنت کی نفی کرنے والوں کے لئے فرمایا۔إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔(ال عمران : 32) ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 536)