حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 439
439 کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز اگر ٹو ٹو ئے عثماں ہے وگر لعل بدخشاں ہے خُدا کے قول سے قول بشر کیونکر برابر ہو وہاں قدرت یہاں درماندگی فرق نمایاں ہے ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لا علمی سخن میں اس کے ہمتائی کہاں مقدور انساں ہے بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اُس پہ آساں ہے ( در مشین اردو صفحہ 3 ) ( براہین احمدیہ۔رخ۔جلد اول صفحہ 202-200) قرآن یقینی اور قطعی کلام ہے اب رہی حدیثیں سو سب سے اول یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ قرآن کریم کے مقابل پر حدیثوں کی کیا قدرا اور منزلت ہے اور جب قرآن کریم کے نصوص بینہ سے کوئی حدیث مخالف پڑے تو کہاں تک اس کے اعتبار کو وزن دے سکتے ہیں۔سو جانا چاہیئے کہ قرآن کریم وہ یقینی او قطعی کلام الہی ہے جس میں انسان کا ایک نقطہ یا ایک شععہ تک دخل نہیں اور وہ اپنے الفاظ اور معنی کے ساتھ خدا تعالے کا ہی کلام ہے اور کسی فرقہ اسلام کو اس کے ماننے سے چارہ نہیں۔اس کی ایک ایک آیت اعلیٰ درجہ کا تو اتر اپنے ساتھ رکھتی ہے وہ وحی متلو ہے جس کے حرف حرف گئے ہوئے ہیں وہ باعث اپنے اعجاز کے بھی تبدیل اور تحریف سے محفوظ ہے۔لیکن احادیث تو انسانوں کے دخل سے بھری ہوئی ہیں۔جو ان میں سے بیچ کہلاتی ہیں ان کا اتنا بھی مرتبہ نہیں جو ایک آیت کے مقابلہ پر ایک کروڑ ان میں سے وہ رنگ اورشان پیدا کر سکے جواللہ جلشانہ کی بے مثل کلام کو حاصل ہے اگر چہ حدیث صحیح بھی جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سند متصل ثابت ہو ایک قسم کی وحی ہے مگر وہ ایسی تو نہیں جو قائم مقام قرآن شریف ہو سکے۔اسی وجہ سے قرآن شریف کی جگہ صرف حدیث پڑھ کر نماز نہیں ہوسکتی۔حدیثوں میں ضعف کی وجوہات اس قدر ہیں کہ ایک دانا آدمی ان پر نظر ڈال کر ہمیشہ اس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ ان کو تقویت دینے کے لئے کم سے کم نص قرآنی کا کوئی اشارہ ہی ہو۔یہ سچ ہے کہ حدیثیں صحابہ کی زبان سے بتوسط کئی راویوں کے مؤلفین صحاح تک پہنچی ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ جہاں تک ممکن ہے مؤلفین صحاح نے حدیثوں کی تنقید وتفتیش میں بڑی بڑی کوششیں کی ہیں مگر پھر بھی ہمیں ان پر وہ بھروسہ نہیں کرنا چاہئے جو اللہ جلشانہ کی کلام پر کیا جاتا ہے۔(ازالہ اوہام۔۔۔خ۔جلد 3 صفحہ 384 ) فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ۔(المرسلات: 51) فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ یعنی قرآن کریم کے بعد کس حدیث پر ایمان لاؤ گے اور ظاہر ہے کہ ہم مسلمانوں کے پاس وہ ٹص جو اول درجہ پر قطعی اور یقینی ہے قرآن کریم ہی ہے اکثر احادیث اگر صحیح بھی ہوں تو مفید ظن ہیں و ان الظن لا يعنى من الحق شياء۔(النجم : 29) (ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 453)