حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 437 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 437

437 طریقوں میں ایک معمولی درجہ تک رہتے ہیں اپنے جو روستم اور بیبا کی کو انتہا تک نہیں پہنچاتے۔پس وہ تو اپنی سزا قیامت کو پائیں گے اور خدائے علیم ان کو اس جگہ نہیں پکڑتا کیونکہ ان کی روش میں حد سے زیادہ بنتی نہیں۔لہذا ایسے گناہوں کی سزا کے لئے صرف ایک ہی دن مقرر ہے جو یوم المجازات اور یوم الدین اور یوم الفصل کہلاتا ہے (۲) دوسری قسم کے وہ مجرم ہیں جو ظلم اور ستم اور شوخی اور بے باکی میں حد سے بڑھ جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خدا کے ماموروں اور رسولوں اور راستبازوں کو درندوں کی طرح پھاڑ ڈالیں اور دنیا پر سے ان کا نام ونشان مٹا دیں اور ان کو آگ کی طرح بھسم کر ڈالیں۔ایسے مجرموں کیلئے جن کا غضب انتہا تک پہنچ جاتا ہے سنت اللہ یہی ہے کہ اسی دنیا میں خدا تعالیٰ کا غضب ان پر بھڑکتا ہے اور اسی دنیا میں وہ سزا پاتے ہیں علاوہ اس سزا کے جو قیامت کو ملے گی۔اس لئے قرآنی اصطلاح میں ان کا نام مغضوب علیہم ہے۔اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں حقیقی مصداق اس نام کا ان یہودیوں کو ٹھیرایا ہے جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو نابود کرنا چاہا تھا۔پس ان کے دائمی غضب کے مقابل پر خدا نے بھی ان کو دائمی غضب کے وعید سے پامال کیا جیسا کہ آیت وَ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا إلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ( ال عمران : 56) سے سمجھا جاتا ہے اس قسم کا غضب جو قیامت تک منقطع نہ ہو اسکی نظیر قرآن شریف میں بجز حضرت مسیح کے دشمنوں کے یا آنے والے مسیح موعود کے دشمنوں کے اور کسی قوم کے لئے پائی نہیں جاتی اور مغضوب علیہم کے لفظ میں دنیا کے غضب کی وعید ہے جو دونوں مسیحوں کے دشمنوں کے متعلق ہے۔یہ ایسی نص صریح ہے کہ اس سے انکار قرآن سے انکار ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ۔جلد 17 صفحہ 214-212) دو گروہوں کے اعتبار سے اور اگر چہ فیج اعوج میں بھی جماعت کثیر گمراہوں کے مقابل نیک اور اہل اللہ اور ہر صدی کے سر پر مجدد بھی ہوتے رہے ہیں لیکن حسب منطوق آیت ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْآخَرِيْنَ (الواقعة: 40-41) خالص محمدی گروہ جو ہر ایک پلید ملونی اور آمیزش سے پاک اور تو بہ نصوح سے غسل دیئے ہوئے ایمان اور دقائق عرفان اور علم اور عمل اور تقویٰ کے لحاظ سے ایک کثیر التعداد جماعت ہے یہ اسلام میں صرف دوگروہ ہیں یعنی گروہ اولین وگروہ آخرین جو صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت سے مراد ہے۔اور چونکہ حکم کثرت مقدار اور کمال صفائی انوار پر ہوتا ہے اس لئے اس سورۃ میں اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے فقرہ سے مراد یہی دونوں گروہ ہیں یعنی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم مع اپنی جماعت کے اور مسیح موعود معہ اپنی جماعت کے خلاصہ کلام یہ کہ خدا نے ابتدا سے اس امت میں دو گروہ ہی تجویز فرمائے ہیں اور انہی کی طرف سورۃ فاتحہ کے فقرہ انعَمتَ عَلَيْهِمْ میں اشارہ ہے (۱) ایک اولین جو جماعت نبوی ہے (۲) دوسرے آخرین جو جماعت مسیح موعود ہے۔اور افراد کاملہ جو درمیانی زمانہ میں ہیں جو فیج اعوج کے نام سے موسوم ہے جو بوجہ اپنی کمی مقدار اور کثرت اشرار و فجار و هجوم افواج بد مذاہب و بدعقائد و بد اعمال شاذ و نادر کے حکم میں سمجھے گئے گو دوسرے فرقوں کی نسبت درمیانی زمانہ کے صلحائے امت محمدیہ بھی باوجو د طوفان بدعات کے ایک دریائے عظیم کی طرح ہیں۔(تحفہ گولڑویہ۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 225-226 )