حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 435 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 435

435 اس کتاب میں دو خو بیاں ہیں ایک تو یہ کہ حکیم مطلق نے محکم اور مدل طور پر یعنی علوم حکمیہ کی طرح اس کو بیان کیا ہے بطور کتھا یا قصہ نہیں۔دوسری یہ خوبی کہ اس میں تمام ضروریات علم معاد کی تفصیل کی گئی ہے۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 224-223 حاشیہ نمبر 11 ) حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ۔(القمر: 6) حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ قرآن۔۔انتہائی درجہ کی حکمت ہے۔جنگ مقدس۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 87) وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ ، إِنْ يُتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُوْنَ۔(الانعام: 117) ترجمہ۔اور اگر اطاعت کرے تو اکثر ان لوگوں کی جو زمین میں ہیں گمراہ کر دیں گے تجھے راہ سے اللہ کی نہیں پیروی کرتے سوائے گمان کے اور نہیں وہ مگر اٹکل کرتے۔قرآن کریم کی محکمات اور بینات علم ہے اور مخالف قران کے جو کچھ ہے وہ فطن ہے اور جو شخص علم ہوتے ہوئے ظن کا اتباع کرے وہ اس آیت کے نیچے داخل ہے۔الحق مباحثہ لدھیانہ - ر-خ- جلد 4 صفحہ 94) فطرت انسانی کے اعتبار سے وَهَذَا ذِكْرٌ مُبرَكَ اَنْزَلْنَهُ ، اَفَانْتُمْ لَهُ مُنْكِرُوْنَ (الانبياء: 51) طَ قرآن شریف صرف سماع کی حد تک محدود نہیں ہے کیونکہ اس میں انسانوں کے سمجھانے کے لئے بڑے بڑے معقول دلائل ہیں اور جس قدر عقائد اور اصول اور احکام اس نے پیش کئے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا امر نہیں جس میں زبر دستی اور تحکم ہو جیسا کہ اس نے خود فرما دیا ہے کہ یہ سب عقائد وغیرہ انسان کی فطرت میں پہلے سے منقوش ہیں اور قرآن شریف کا نام ذکر رکھا ہے جیسا کہ فرماتا ہے هذَا ذِكْرٌ مُبرَک یعنی یہ قرآن با برکت کوئی نئی چیز نہیں لا یا بلکہ جو کچھ انسان کی فطرت اور صحیفہ قدرت میں بھرا پڑا ہے اس کو یاد دلاتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔رخ، جلد 10 ، صفحہ 433)