حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 431
431 اور پھر فرمایا قَدْ خَابَ مَنْ دَشَهَا۔(الشمس: 11) مٹی کے برابر ہو گیا وہ شخص جس نے نفس کو آلودہ کر لیا یعنی جو زمین کی طرف جھک گیا۔گویا یہ ایک ہی فقرہ قرآن کریم کی ساری تعلیمات کا خلاصہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کس طرح خدا تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔یہ بالکل سچی اور پکی بات ہے کہ جب تک انسان قومی بشریہ کے برے طریق کو نہیں چھوڑتا اس وقت تک خدا نہیں ملتا۔دنیا کی گندگیوں سے نکلنا چاہتے ہو اور خدا تعالیٰ کو ملنا چاہتے ہو تو ان لذات کو ترک کرو۔ورنہ سے ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں ایں خیال است و محال است و جنوں (ترجمہ: خدا کو بھی چاہتے ہو اور دنیا کو بھی۔یہ خیال ہی ہے اور ایک مجنونانہ محال امر ہے۔) لے حاشیہ بدر سے:۔جس نے دین کو مقدم کیا وہ خدا کے ساتھ مل گیا۔نفس کو خاک کے ساتھ ملا دینا چاہئے خدا تعالیٰ کو ہر بات میں مقدم کرنا چاہیئے۔یہی دین کا خلاصہ ہے جتنے برے طریق ہیں ان سب کو ترک کر دینا چاہیئے۔تب خدا ملتا ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 643-642) ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (البلد: 18) مومن وہی ہیں جو ایک دوسرے کو صبر اور مرحمت کی نصیحت کرتے ہیں یعنی یہ کہتے ہیں کہ شدائد پر صبر کرو۔اور خدا کے بندوں پر شفقت کرو۔اس جگہ بھی مرحمت سے مراد شفقت ہے کیونکہ مرحمت کا لفظ زبان عرب میں شفقت کے معنوں پر مستعمل ہے۔پس قرآنی تعلیم کا اصل مطلب یہ ہے کہ محبت جس کی حقیقت محبوب کے رنگ سے رنگین ہو جاتا ہے بجز خدا تعالیٰ اور صلحاء کے اور کسی سے جائز نہیں بلکہ سخت حرام ہے۔( نور القرآن۔۔۔خ۔جلد 9 صفحہ 434-433) قرآن شریف کی تعلیم کا اصل مقصد اور مدعا یہی ہے کہ خدا تعالیٰ جیسا وحدہ لاشریک ہے ایسا ہی محبت کی رو سے بھی اس کو وحدہ لاشریک یقین کیا جاوے اور کل انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کا اصل منشاء ہمیشہ یہی رہا ہے۔چنانچہ لا إلهَ إِلَّا اللهُ جیسے ایک طرف توحید کی تعلیم دیتا ہے ساتھ ہی توحید کی تکمیل محبت کی ہدایت بھی کرتا ہے اور جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے یہ ایک ایسا پیارا اور پر معنی جملہ ہے کہ اس کی مانند ساری تو رات اور انجیل میں نہیں اور نہ دنیا کی کسی اور کتاب نے کامل تعلیم دی ہے۔اللہ کے معنی ہیں ایسا محبوب اور معشوق جس کی پرستش کی جاوے۔گویا اسلام کی یہ اصل محبت کے مفہوم کو پورے اور کامل طور پر ادا کرتی ہے۔یاد رکھو کہ جو تو حید بدوں محبت کے ہو وہ ناقص اور ادھوری ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 137 )